1994ء میں ’مس یونیورس‘ کا ٹائٹل جیتنے والی بالی ووڈ کی معروف اداکارہ سشمیتا سین نے انکشاف کیا ہے کہ جب اُنہوں نے اداکاری شروع کی تو اُنہیں دوسروں پر بُرے اثرات مرتب کرنے والی عورت سمجھ کر بچوں کو اُن سے دور رکھنے کی کوشش کی جاتی تھی۔
بھارتی جریدے ’فلم فیئر‘ کے مطابق سشمیتا سین نے اپنی ریلیز ہونے والی ویب سیریز ’تالی‘ کی کامیابی پر حال ہی میں ایک انٹرویو دیا ہے۔
اس انٹرویو کے دوران اداکارہ کا بتانا ہے کہ 1990ء کی دہائی میں لوگ اتنے باشعور نہیں تھے اور اِس وقت اظہار رائے کی آزادی کا بھی کوئی تصور نہیں تھا، 1990 کے دور میں اُن کی شخصیت سے متعلق یہ تاثر عام پایا جاتا تھا کہ وہ بچوں اور دیگر کم عمر افراد پر خراب تاثر چھوڑیں گی، اس لیے اُنہیں بُرا سمجھ کر اِنہیں نظر انداز کیا جاتا تھا۔
سشمیتا سین نے بتایا کہ لوگ انہیں دوسروں پر برے اثرات مرتب کرنے والی عورت سمجھ کر بچوں کو اِن سے دور رکھنے کی کوشش کیا کرتے تھے اور ان کا مقصد ہوتا تھا کہ اداکارہ کسی بھی طرح دوسرے لوگوں کے سامنے نہ آسکیں۔
اداکارہ کا انٹرویو میں بتانا تھا کہ لوگوں کے ایسے رویے کی وجہ سے وہ اس وقت خاموش ہوجاتی تھیں، کوئی بات نہیں کرتی تھیں اور نہ ہی انہیں ایسا کوئی پلیٹ فارم میسر تھا کہ جہاں وہ بات کر سکیں۔
سشمیتا سین کے مطابق اُس وقت کا معاشرہ بہت زیادہ تنگ نظر تھا اس لیے جب کوئی بھی شخص اپنی سوچ کے مطابق کوئی بات کرتا تھا تو اسے غلط اور برا ہی سمجھا جاتا تھا۔
اداکارہ نے حالیہ دور کو بہترین قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج ہر کسی کے پاس سوشل میڈیا تک رسائی ہے، ہر کوئی کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرسکتا ہے اور ایک دوسرے کو رہن سہن کے پیشِ نظر برا نہیں سمجھا جاتا۔
واضح رہے کہ سشمیتا سین کی ویب سیریز ’تالی‘ رواں ماہ 15 اگست کو ریلیز ہوئی ہے، اس سیریز میں اُنہوں نے ٹرانس جینڈر کا کردار ادا کیا ہے، یہ سیریز تنگ ذہن معاشرے میں ٹرانس کمیونٹی کو پیش آنے والی مشکلات پر بنائی گئی ہے۔









