کراچی(ویب ڈیسک )ماہر معیشت خرم شہزاد نے کہا ہے کہ 300یونٹ تک مفت بجلی فراہم کرنا ممکن نہیں ، رکن انتظامی کمیٹی پی سی بی مصطفی رمدے نے کہا کہ ذکاء اشرف کے مطابق انہیں حکومتی دباؤ اتنا زیادہ ہے کام نہیں کرنے دیا جاتا ہے، انضمام الحق نے کہا کہ کسی کو بھی تین ماہ اور چھ ماہ کے لئے نہیں لانا چاہئے۔
اعزاز سید نے کہا کہ عمران خان نے جلسے میں کیا لہرایا اور کیا نہیں وہ اعظم خان کی ذمہ داری کے ذائرہ کار میں نہیں آتا۔وہ نجی ٹی وی کے پروگرام ”نیا پاکستان “ میں میزبان شہزاد اقبال سے گفتگو کررہے تھے۔
پروگرام کے آغاز میں میزبان شہزاد اقبال نے تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ سابق وزیراعظم اور بانی پاکستان پی ٹی آئی کے سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان کے سائفر کیس میں خصوصی عدالت کے سامنے حالیہ بیان نے اس کیس سے متعلق مزید اہم سوالات کھڑے کردیئے ہیں۔
کیا اعظم خان کے بیان میں تبدیلی سے استغاثہ کا کیس کمزور اور بانی پی ٹی آئی کا دفاع مضبوط ہوگا؟ ، ماہر معیشت خرم شہزاد نے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ300 یونٹ تک مفت بجلی فراہم کی جاسکے۔ سیاسی جماعتوں کو اس سے اجتناب برتنا چاہئے۔
سچ بتانے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔ اقتدار میں آنے کے بعد وہی کیا جائے گا جو آئی ایم ایف کہہ رہا ہوگا۔
سولر پاور سے بہت زیادہ بجلی نہیں پیدا کی جاسکتی۔ ہمیں پانی سے بجلی بنانے کی طرف جانا پڑے گا۔ یہ ہوسکتا ہے کہ بجلی میں شامل کئے گئے ٹیکس کم کئے جائیں۔ بجلی کے نرخوں کو نیچے لانے کیلئے کوششیں کی جانی چاہئیں۔ نمائندہ خصوصی جیو نیوز اعزاز سید نے کہا کہ سابق پرنسپل سیکرٹری اعظم خان نے جیل میں جو بیان دیا ہے یا ابھی بیان ریکارڈ کرایا ہے۔
صرف دو چیزیں انہوں نے اپنے بیان میں نہیں کہیں۔ ایک تو یہ کہ انہوں نے جو پہلے بیان دیا ہوا ہے اس میں یہ کہا کہ عمران خان نے فوج اور اداروں کے خلاف ایک سازش کی ہے۔
دوسری بات جو انہوں نے اپنے پہلے بیان میں کہی تھی جو اس دفعہ نہیں کہی کہ عمران خان کے اس الزام کی وجہ سے پاکستان کے تعلقات امریکا سمیت دیگر ممالک سے وہ متاثر ہوئے ہیں۔90 فیصد بیان پر وہ قائم ہیں 10 فیصد بیان انہوں نے نہیں دیا۔
ایک اسٹیپ ابھی باقی ہے وہ یہ ہے کہ جب عمران خان کے وکلا کی ٹیم اعظم خان پر جرح کرے گی تو اس جرح کے دوران اعظم خان کیا کرتے ہیں تب استغاثہ کے کیس کو بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ آج نقصان اس طریقے سے نہیں ہوا مگر جو نقصان ہوا اس کی مقدار بہت کم ہے۔
ذمہ داری اعظم خان پر فکس ہوتی ہے کہ کیا اعظم خان نے وہ سائفر وصول کیا تھا بالکل کیا تھا اعظم خان مانتے ہیں۔ عمران خان نے جلسے میں کیا لہرایا اور کیا نہیں لہرایا، وہ اعظم خان کی ذمہ داری کے دائرہ کار میں نہیں آتا۔ اعظم خان نے دونوں گھر خوش کرلئے ہیں۔
اس روز جب کیس کا آغاز ہوا تو اعظم خان آئے تو انہوں نے عمران خان سے ہاتھ نہیں ملایا تھا۔ جب اعظم خان حلف دے رہے تھے تو کہا گیا کہ قرآن منگوایا جائے۔ جب وہ بیان دے کر جانے لگے تو وہ عمران خان کے پاس گئے عمران خان سے ہاتھ ملایا اور ان کے کان میں ایک سرگوشی کی۔
جب سرگوشی کی تو عمران خان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ آئی، جاتے وقت عمران خان نے ان کو تھپکی بھی دی۔ اعظم خان نے عمران خان کو اپنی وفاداری دکھا دی اور وہ خوش ہوگئے۔
پی ٹی آئی کے لوگ اعظم خان کے حق میں آواز بلند کررہے ہیں اور اعظم خان کو ایک ہیرو قرار دے رہے ہیں۔ رکن انتظامی کمیٹی پی سی بی مصطفی رمدے نے مزید کہا کہ ذکاء اشرف نے مینجمنٹ کمیٹی کی ایک طویل میٹنگ کے آخر میں اپنے فیصلے میں بتایا کہ وہ استعفیٰ دے رہے ہیں۔ انہیں کہا گیا کہ آپ استعفیٰ نہ دیں انہوں نے کہا نہیں حکومتی دباؤ اتنا زیادہ ہے کام نہیں کرنے دیا جاتا ہے۔









