بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بنگلہ دیش: پولیس نے ڈھاکا کے ہسپتال سے مظاہرین کو گرفتا کر لیا

بنگلہ دیشی پولیس نے تین طلبہ رہنماؤں کو ہسپتال سے ڈسچارج کرنے پر مجبور کر دیا جن کو مہلک بدامنی کا ذمہ دار ٹھہرا کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

نجی اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ناہید اسلام، آصف محمود اور ابو بکر مجمدار تمام طلبہ امتیازی سلوک کے خلاف اور سرکاری نوکریوں میں بھرتی کے قوانین کے خلاف رواں ماہ سڑکوں پر ریلیاں منعقد کرنے کے ذمہ دار ہیں۔

بنگلہ دیشی وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد کے دور کی بدترین بدامنی میں، پولیس اور ہسپتالوں کے ذرائع سے اے ایف پی کو پتا چلا کہ پولیس کریک ڈاؤن اور جھڑپوں میں کم از کم 195 افراد ہلاک ہوئے۔

یہ تینوں دارالحکومت ڈھاکا کے ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے، جن میں سے کم از کم 2 نے بتایا کہ وہ پولیس کی ابتدائی حراست میں تشدد کی وجہ سے زخمی ہوئے۔

گونوشستایا ہسپتال کی سپروائزر انوارہ بیگم لکی نے بتایا کہ وہ انہیں لے گئے، ان افراد کا تعلق جاسوسی برانچ سے تھا۔

اس نے مزید کہا کہ وہ طلبہ رہنماؤں کو ڈسچارج نہیں کرنا چاہتی تھیں لیکن پولیس نے ہسپتال کے سربراہ پر ایسا کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تھا۔

تینوں کے طلبہ گروپ نے رواں ہفتے کے آغاز میں یہ کہتے ہوئے تازہ احتجاج کو معطل کر دیا تھا کہ وہ سرکاری ملازمتوں کے کوٹے میں اصلاحات چاہتے ہیں لیکن ’اتنے خون کی قیمت پر‘ نہیں۔

یہ وقفہ جمعہ کو ختم ہونا تھا لیکن اس گروپ نے اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کا کوئی اشارہ نہیں دیا تھا۔

ڈھاکا میں تین اعلیٰ پولیس افسران نے اس بات کی تردید کی کہ تینوں کو ہسپتال سے لے جایا گیا اور حراست میں لیا گیا۔

پولیس نے جمعرات کو بتایا تھا کہ کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے شروع ہونے والی بدامنی شروع کے بعد سے کم از کم 4 ہزار افراد کو گرفتار کیا، جن میں ڈھاکا سے گرفتار ڈھائی ہزار افراد شامل ہیں۔

گزشتہ روز پولیس نے بتایا کہ بنگلہ دیش کی سب سے بڑی گارمنٹس فیکٹری کے بانی اور چیف ایگزیکٹو ڈیوڈ حسنات کو گرفتار کر لیا ہے۔

ڈھاکا پولیس کے انسپکٹر ابو سعید میا نے کہا کہ ڈیوڈ حسنات اور دیگر متعدد افراد پر گزشتہ ہفتے کی ’انتشار، آتش زنی اور توڑ پھوڑ‘ کے لیے مالی معاونت کا شبہ ہے۔

وزیر اعظم حسینہ واجد نے جمعہ کو سرکاری براڈکاسٹر بنگلہ دیش ٹیلی ویژن کا دورہ کرتے ہوئے سرکاری عمارتوں کا دورہ جاری رکھا جنہیں مظاہرین نے توڑ پھوڑ کا نشانہ بنایا تھا۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی بی ایس ایس کے مطابق انہوں نے ہدایت دی کہ ان لوگوں کو تلاش کریں جو اس میں ملوث تھے، ان کی سزا کو یقینی بنانے کے لیے ہمارے ساتھ تعاون کریں، میرا قوم سے یہ مطالبہ ہے۔