تہران(انٹرنیشنل ڈیسک)ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کمیٹی کے ارکان اور وزیر خارجہ کے عہدے کے امیدوار عباس عراقجی کے درمیان ہونے والی گفتگو کی کچھ تفصیلات کا انکشاف کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ “فوجی اور سفارتی میدان” میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اس کے برعکس سابق ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف وزارت خارجہ میں فوج خاص طور پر پاسداران انقلاب کے معاملات میں مداخلت کی شکایت کر رہے تھے۔
رضائی کے مطابق عباس عراقجی نےاس بات پر زور دیا کہ ان کا عالمی نظریہ ویسا ہی تھا جیسا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کے رکن کے
طور پر تھا۔ اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، وہ کہہ چکے ہیں کہ “میں نیویارک کے گینگ کا رکن نہیں ہوں”۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ “نیویارک گینگ” کے حوالے سے امریکی مارٹن سکورسی کی ہدایت کاری میں بننے والی فیچر فلم “گینگز آف نیویارک” سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ اس میں لیونارڈو ڈی کیپریو، ڈینیئل ڈے لوئس اور کیمرون ڈیاز نے اداکاری کی ہے، لیکن یہ اصطلاح ایران میں انتہا پسندوں کے لیے ایرانی سیاست پر لٹریچر میں استعمال کی جاتی ہے۔ یہ نام ایرانیوں کے ایک گروپ کو دیا جاتا ہے جو ایرانی انقلاب سے پہلے امریکہ میں رہتے تھے اور تعلیم حاصل کرتے تھے۔ پھر نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایران کی نمائندگی کے لیے چلے گئے تھے۔علی خامنہ ای کے قریب سمجھے جانے والے اخبار کیہان نے پہلی بار کئی سال پیشتر یہ اصطلاح عوامی طور پر استعمال کی تھی۔
ایران اور اس کی وفادار ملیشیاؤں کے ماہر جابر رجبی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو “نیویارک گینگ” کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ “صادق خرازی جو علی خامنہ ای کے بھائی کے داماد اوراقوام متحدہ میں ایران کے 1980ء اور 1990ء کی دہائیوں کے دوران مندوب رہے سابق ایرانی وزیر خارجہ ظریف کے ساتھ بنیاد پرست تحریک کو “نیویارک گینگ” کا روحانی باپ اور بانی مانتے ہیں، کیونکہ اس گروپ کے ارکان کا خیال ہے کہ تہران کو امریکہ کے ساتھ ایک معاہدہ کرنا چاہیے۔ تاکہ ایران کو مشرق وسطیٰ کے خطے میں برتری حاصل ہو۔ انقلاب کو برآمد کرنے اور ایرانی حکومت کی سٹریٹجک گہرائی کو بڑھانے کی اجازت دی جائے۔ اس لیے ہمیں پہلے امریکہ کے ساتھ مفاہمت کرنا چاہیے اور پھر اس کا شراکت دار بننا چاہیے۔
رجبی نے مزید کہا کہ “اس گروپ میں نہ صرف نیویارک کے لوگ شامل ہیں، بلکہ ملک کے اندر بہت سے بااثر اہلکار بھی شامل ہیں۔ ان میں سے کچھ کا دعویٰ ہے کہ ایرانی رہ نما کی حمایت سے وہ نائکی جیسی تنظیموں کی مدد کرنے میں کامیاب ہوئے تاکہ ان کی تشہیر کی جا سکے۔
ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ایایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای
1 من 2
حسن روحانی کا دور
جابر الرجبی نے مزید کہا کہ “سابق ایرانی صدر حسن روحانی جو کہ سیاستدانوں اور سکیورٹی اہلکاروں پر مشتمل ایک مضبوط گروپ کی قیادت کر رہے تھے عراق اور ایران کے درمیان جنگ بندی کے لیے قرارداد 598 کے اجراء اور جوہری مذاکرات جیسے اہم معاملات کو آگے بڑھانے میں کامیاب رہے تھے۔ انہوں نے خارجہ پالیسی اس گروپ کو سونپ دی جس کے مخالفین اسے “نیویارک گینگ” کہتے ہیں۔ یہ خامنہ ای کے ساتھ مکمل ہم آہنگی تھی۔ جب روحانی کے 2013ء میں ایرانی جمہوریہ کے صدر بنے تواس وقت ایرانی حکومت بہت خراب حالات سے گذر رہی تھی۔ اس کے بین الاقوامی تعلقات اچھے نہیں تھے۔ اس لیے دنیا کے ساتھ ایک معاہدے تک پہنچنا ایک قطعی ضرورت تھی۔ یہ مقصد نیویارک والوں سے بہتر کوئی نہیں حاصل کرسکتا تھا۔
رجبی نے مزید کہا کہ “خامنہ ای نے اس گروپ کو امریکہ کے ساتھ براہ راست مذاکرات کرنے کی بڑی حد تک آزادی دی۔ جس میں جواد ظریف اور سابق امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے درمیان براہ راست مذاکرات اور امریکی ماہرین کو تہران میں مدعو کرنا شامل تھا۔ نام نہاد “نیویارک گینگ” اور قدس فورس کے تعاون سے روحانی خامنہ ای کے بہت سے مقاصد حاصل کرنے میں کامیاب رہے”۔
نیویارک گینگ کا زوال
رجبی بتاتے ہیں کہ لیکن سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد لابی اور نیو یارک والوں کی طاقت خامنہ ای کے مطالبات کے حصول کرنے میں ناکام رہی۔ ایسی صورت حال میں ایرانی حکومت کے لیے حالات مزید خراب ہو گئے۔ خامنہ ای نے خود کو دور کرنا شروع کر دیا۔ دوسری طرف انقلابی گارڈز نے ٹرمپ کی واپسی کا الزام لگایا۔ اس گروپ کے کچھ ارکان کو گرفتار کرنا شروع کیا جن میں جوہری مذاکراتی ٹیم کے رکن دوری اصفہانی شامل ہیں۔ انہیں جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا۔
سابق فلسطینی صدر ابراہیم رئیسیسابق فلسطینی صدر ابراہیم رئیسی
1 من 2
رئیسی کی صدارت اور نیو یارک گروپ کی کمزوری
ایرانی ماہرجابر رجبی کا خیال ہے کہ مرحوم ایرانی صدرابراہیم رئیسی کے دور میں ایرانی وزارت خارجہ کو کنٹرول کرنے والے نیو یارک گروپ کے بال وپر کاٹ دیے تھے۔ ایسے افراد کو وزارت خارجہ میں تعینات کیا گیا تھا جن کا قدس فورس سے گہرا تعلق تھا۔
حسین امیر عبداللہیان وزیر خارجہ بنے اور کئی سالوں تک قدس فورس اور ایرانی وزارت خارجہ کے درمیان رابطے کا کردار ادا کیا۔ عبداللہیان رئیسی کے ساتھ ہیلی کاپٹر کے حادثے میں مارے گئے تھے۔
رجبی کے مطابق “اب ہم ایک بڑے تضاد کا مشاہدہ کر رہے ہیں۔ جیسا کہ ایرانی سپریم لیڈر ذاتی طور پر حالات کو سنبھالتے ہیں۔ ایک اصلاح پسند حکومت اقتدار میں آئے تاکہ اندرون اور بیرون ملک حکومت کی تصویر کو دوبارہ تعمیر کیا جا سکے، لیکن ساتھ ہی ساتھ سپریم لیڈر نہیں چاہتا کہ ظریف اور نیویارک کے لوگ دوبارہ خارجہ پالیسی کے میدان میں واپس آئیں۔ اس لیے وہ وزارت خارجہ کے موجودہ ڈھانچے کو برقرار رکھنے کے خواہاں ہیں۔ یہاں تضاد واضح طور پر اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب ایک اصلاح پسند حکومت سپریم لیڈر کی حمایت سے اقتدار میں آتی ہے لیکن خامنہ ای نہیں چاہتے کہ وہ بیرون اور اندرون ملک میدانوں میں فیصلہ کن کردار ادا کریں۔
رجبی کا خیال ہے کہ پاسداران انقلاب نئی حکومت کی جانب سے خارجہ پالیسی میں اپنے اثر و رسوخ اور کردار کو کم کرنے کی کوششوں کے بارے میں بھی فکر مند ہے۔









