لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک) وزیر اعظم شہباز شریف نے لاہور میں انڈس ہسپتال کا افتتاح کرتے ہوئے کہا کہ انڈس ہسپتال کی بانیان کی مدد سےہم نے مظفر گڑھ میں طیب اردوان ہسپتال کو باخوبی فعال رکھا ہے۔
لاہور میں انڈس ہسپتال کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے ویلفیئر ہسپتال کی تعمیر پر تشکر کا اظہار کرتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
انہوں نے ماضی کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ 2013 میں میری ملاقات میاں احسان اور اقبال کرچی صاحب سے ہوئی تھی، انہوں نے مجھے کہا کہ ہم نے یونیورسٹی بنانی ہے یہ انسانی فلاح کا کام ہے اس میں کچھ مسائل ہیں انہیں حل کروادیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ انہوں نے مجھے ہسپتال بنانے کا بھی کہا تھا لیکن اس وقت میں نے ان سے طیب اردوان ہسپتال کو چلانے کی درخواست کی ہے، طیب اردوان 2010 میں سیلاب کے بعد ترک حکمت کے اشتراک سے بنایا گیا تھا۔
شہباز شریف نے بتایا کہ انہوں نے بہتر انداز میں ہسپتال میں کو چلایا اور خدمات انجام دیں۔
ان کا کہنا تھا جب میں نے ہسپتال انڈس ہسپتال کے بانی ڈاکٹر باری کو دینے کا کہنا تھا تو ان متعلقہ افسر نے بولی لگانے کے لیے کہا جس پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے میں نے اپنا ڈنڈا چلایا اور اس ہسپتال کو ڈاکٹر باری کے حوالے کیا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ بعدازاں اس ہسپتال کی سلسلہ وار ترقی توسیع کرتے ہوئے ہم اس ہسپتال کو مظفر گڑھ کا بہترین ہسپتال بنا دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ اس قبل حکومت نے کئی ہسپتال بنائے اور ان کے حوالے کیے اور یہ اس کی کوئی تنخوا نہیں لیتے بلکہ صرف حکومت پنجاب کے مقرر کردہ بجٹ میں سے پیسے لیتے ہیں اور پیسے کے استعمال سے مستحق لوگ مستفید ہوتے ہیں۔
لاہور انڈس ہسپتال کے بانیان میں اقبال کرچی و اہلخانہ، جاوید ارشد بھٹی اور میاں محمد احسن شامل ہیں، ہسپتال کی تعمیر میں اقبال کرچی کی جانب سے 2 ارب روپے، احسن محمد احسن، جاوید بھٹی، احسن پرویز، انوار غنی، اعجاز گوہر، میاں طلعت اور میاں احمد سمیت دیگر نے اربوں روپے کا تعاون کیا ہے۔
اس موقع پر وزیر اعظم نے وزیر اعلیٰ بلاسود قرضہ اسکیم کے نائب چیئرمین کو اسٹیج پر بلایا، انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ساڑھے تین سالوں کے دوران وزیر اعلیٰ بلا سود قرضہ اسکیم کے فنڈز بند کر دیے گئے ہیں۔
انہوں بتایا کہ شہباز شریف نے اس اسکیم کا آغاز ساڑھے 3 ارب سے کیا تھا جو چند ہی سالوں میں 12 ارب تک پہنچ گئی تھی۔
ان کا کہنا تھا کہ اس اسکیم کے تحت بغیر رنگ و نسل کی تفریق کے لوگوں کی مدد کی گئی تھی، میرا وزیر اعظم سے مطالبہ ہے کہ اسکیم کے فنڈز دوبارہ بحال کرتے ہوئے اس اسکیم کو پورے ملک کے لیے نافذ العمل کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی اسکیموں کو بند کی گئیں یا سیاست کا نام کردی گئیں۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہمیں ملک کو آگے چلانا ہے تو ہمیں ’گرینڈ ڈائیلاگ‘ کی ضرورت ہے، ہمیں تمام اسٹیک ہولڈرز سے بات جیت کرنی ہوگی۔
ان کا کہنا تھا کہ گرینڈ ڈائیلاگ کا مقصد یہ ہے اس میں صحت، تعلیم، صنعت اور زراعت کی ترقی کے لیے بات کی جائے، آئی ٹی سمیت متعدد ایسے شعبے ہیں جن میں یہ ملک بہت آگے بڑھ سکتا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ میں یہاں کوئی سیاست کی بات نہیں کرنا چاہتا لیکن سابقہ حکومت نے پی کے ایل آئی جو خطے کا بہترین ہسپتال تھا اسے سیاست کے نظر کردیا، اس کے بہترین عملے کو بے عزت کرکے نکال دیا گیا، اس میں خدمات انجام دینے والے ڈاکٹر بیرون ملک سے اپنی نوکریاں چھوڑ کر پاکستان آئے تھے۔









