بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

امریکی حکام کا مشورہ، اسرائیل کا اعتدال پسند ردعمل کا سہارا لینے پر غور

یروشلم(انٹرنیشنل ڈیسک)اسرائیل نے گزشتہ ہفتے تہران کی جانب سے کیے گئے حملے کا جواب دینے کے اپنے عزم کا اظہار کر رکھا ہے لیکن امریکی مشورے میں ابھی تک کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ واشنگٹن نے ایرانی جوہری مقامات پر حملے سے بچنے کی ضرورت پر زور دیا اور امریکی حکام نے مشورہ دیا ہے کہ اسرائیلی حکام گہری سانس لیں اور اپنی کامیابیوں کو شمار کریں۔ امریکی حکام نے یہ امید بھی ظاہر کی ہے کہ تل ابیب اب یہی کرے گا۔

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی حکام کا کہنا تھا کہ انہیں یقین ہے کہ اسرائیل امریکی مشورے کے مطابق اعتدال پسند ردعمل کا سہارا لینے پر غور کرے گا۔یہ ایسا رد عمل ہوگا جس سے ایرانی انتقامی کارروائی کی راہ ہموار نہ ہو۔ انہوں نے یہ بھی حوالہ دیا کہ اسرائیل نے اصل میں اپریل میں ایرانی حملے کے بعد اس نظم و ضبط کے راستے کی پیروی کی تھی۔ اس نے ایک محدود جوابی حملہ کیا جس سے معمولی نقصان ہوا اور ایران کو جوابی کارروائی سے روک دیا۔

انہوں نے انکشاف کیا کہ امریکی انتظامیہ نے اپنے اتحادی کو مشورہ دیا کہ اس نے حال ہی میں جو کچھ حاصل کیا ہے اس کا جائزہ لیں۔ کوئی بھی جوابی ردعمل شروع کرنے سے پہلے گہری سانس لیں۔

اس تناظر میں بات چیت سے واقف ایک امریکی اہلکار نے بتایا ہے کہ اسرائیل درحقیقت اب بھی حملوں پر اپنے ردعمل کا مطالعہ کر رہا ہے لیکن مستقبل کے راستے اور ردعمل کے طریقہ کار کے حوالے سے اندرونی تقسیم موجود ہے۔ یہ امریکی مشورہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب پوری دنیا مشرق وسطیٰ میں ہونے والی غیرمعمولی کشیدگی پر نظر جمائے ہوئے ہے۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان اس ماہ کے اوائل میں میزائل حملے کے بعد دھمکیوں کا تبادلہ کیا جارہا ہے۔ اسی طرح غزہ کی پٹی میں بھی بمباری اور توسیعی کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کو بھی جبالیا کیمپ پر حملہ کیا گیا۔

جوابی کارروائی کے لیے تیار ہیں: ایران
اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ اسرائیلی ردعمل کیا ہو سکتا ہے امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعے کو اسرائیل پر زور دیا کہ وہ ایرانی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے سے گریز کرے۔ ریپبلکن وائٹ ہاؤس کے امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ نے زور دیا کہ تل ابیب کو ایران کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کردینا چاہیے۔

دوسری جانب کئی ایرانی ذرائع نے اس سے قبل تصدیق کی تھی کہ پاسداران انقلاب نے کئی مقامات پر نئے میزائل نصب کیے ہیں۔ ملک میں تیل کی تنصیبات اور پاور پلانٹس کی حفاظت کے لیے غیر معمولی اقدامات بھی نافذ کیے ہیں۔ ایک ایرانی عسکری ذریعے نے آج کے اوائل میں تصدیق کی کہ اسرائیل کی طرف سے کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے ضروری ردعمل کا منصوبہ مکمل طور پر تیار ہے۔

انہوں نے یہ بھی وضاحت کی کہ ایران کے اسرائیل کے اندر بہت سے اہداف ہیں۔ تہران کسی بھی مقام کو تباہ کر سکتا ہے اور اسے زمین پر برابر کر سکتا ہے۔ مخصوص جوابی حملوں کی کئی قسمیں ہیں جو ایرانی منصوبے کے تحت تیار کی گئی ہیں۔ ان اہداف پر حملے کا انحصار اسرائیلی ردعمل کی نوعیت پر منحصر ہوگا۔