اسلام آباد(طارق محمود سمیر)پی ٹی آئی کا بڑا یوٹرن، کل قومی اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ، آج واپس آگئی،کل اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان نے کہا تھا جب تک بانی پی ٹی آئی اور ساتھی رہا نہیں ہوتے اجلاس کے حصہ نہیں بنیں گے۔تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی کا اجلاس ڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ کی زیر صدارت ہو ا،وقفہ سوالات کے دوران پیپلزپارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی نے کہا کہ ہائیر ایجوکیشن کمیشن میں60 ارب روپے کا شارٹ فال ہے، رائے حسن نواز کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی دور میں پورے پاکستان میں ایک سلیبس کے لئے بہت کام ہوا، سلیبس ایک ہونا بہت ضروری ہے،
پارلیمانی سیکرٹری فرح ناز اکبر کا کہنا تھا کہ یہ صوبائی معاملہ ہے لیکن ہم اس پر کام کر رہے ہیں،
پیپلزپارٹی کے رہنما نوید قمر کا کہنا تھا کہ ایک دفعہ پی آئی اے کی نجکاری کی کوشش ہو چکی اور ناکامی ہوئی، دوبارہ نجکاری کی بات ہو رہی ہے، کیا ٹائم فریم رکھا ہے، پراسس کو بہتر کرنے کے لئے آپ نے سوچا بھی ہے؟
وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ اچھی خبر ہے کہ ہمارے روٹس یورپ کے لئے بحال ہوگئے ہیں، اس دفعہ بہتر صورتحال ہوگی، اب کی بار سمجھا جارہا ہےکہ بڈز بہتر ہوں گی،
نبیل گبول کا کہنا تھا کہ پی آئی اے ٹکٹس پر بلیک میلنگ کرتی ہے، پی آئی اے کا سی ای او اس وقت قائم مقام ہے، کنفیوژن پیدا ہورہی ہے کہ اصل سی ای او کون ہے، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ پہلے سی ای او عامر صاحب تھے ان کی مدت ختم ہوگئی تھی، پی آئی اے ایک اسٹیٹ اونڈ انٹرپرائز ہے،
پیپلزپارٹی کے رہنما عبدالقادر پٹیل نے کہا کہ اس وقت ہر چیز پر ایک خصوصی کمیٹی ہے، خصوصی کمیٹیوں کی تعداد کتنی ہے،
مرزا اختیار بیگ نے کہا کہ جس طرح پہلی بڈنگ کرائی وہ ان پروفیشنل تھی، ابھی تک ایک بھی روڈ شو نہیں ہوا، پی آئی اے کے پروفیشنل روڈ شوز کریں، پارلیمانی سیکرٹری آسیہ اسحاق کا کہنا تھا کہ اس وقت پی آئی اے کے پاس ٹوٹل 34 جہاز ہیں ، 12 جہاز استعمال کے قابل نہیں ہیں، 17 جہاز ورکنگ کنڈیشن میں ہیں، 7300 ملازمین ہیں ،تنخواہوں کی مد میں 35 ارب روپے ادا کئے جاتے ہیں، اگر یہ کہا جائے کہ نجکاری کمیشن اور منسٹری کی ناکامی ہے تو یہ زیادتی ہے، رمیش لال سمیت دیگر ارکان نے ترقیاتی فنڈز نہ ملنے پر اسپیکر ڈائس کے سامنے پلے کارڈز اٹھا کر احتجاج کیا۔ آغا رفیع اللہ نے کہا کہ چیئرمین فیڈرل بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کی تعیناتی کا عمل کب شروع ہوا، آرڈیننس کی ضرورت کیوں پڑی، اس شخص کے ہی بغیر کیوں بورڈ نہیں چل سکتا، آغا رفیع اللہ نے پارلیمانی سیکرٹری کے جواب پر عدم اطمینان کا اظہار کردیا،انہوں نے کہا کہ ایک شخص کے لئے آرڈیننس لانے کی ضرورت پڑی، پارلیمانی سیکرٹری فرح ناز اکبر نے کہا کہ یہ مجاز اتھارٹی نے کیا ہے، پارلیمانی سیکرٹری برائے تجارت ذوالفقار بھٹی کا کہنا تھا کہ ہم نے 13 فیصد ایکسپورٹس میں گروتھ کی ہے،ہم نے دوبارہ ای کامرس پالیسی کو وضع کرنا شروع کیا ہے، اس میں ڈیجیٹل ٹیکنالوجی استعمال ہورہی ہے، نوید قمر نے پارلیمانی سیکرٹریز کے جواب پر عدم اطمینان اور وزراء کی عدم موجودگی پر اعتراض اٹھا دیا اور کہا کہ وزیروں کو بلینک چیک دے دیا ہے کہ ان کے آنے کی ضرورت نہیں، کچھ پارلیمانی سیکرٹریز کو پراپر بریف نہیں کیا گیا، ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ ہم نے منسٹر کی حاضری کے وزیر اعظم کو خط لکھا، پیپلز پارٹی نے قومی اسمبلی اجلاس سے واک آؤٹ کردیا۔ن لیگ کے حنیف عباسی نے بھی پیپلز پارٹی کے ساتھ واک آؤٹ کردیا۔ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ توجہ دلاؤ نوٹس کا جواب دینے والا کوئی نہیں ہے ، حنیف عباسی ایوان میں واپس آگئے۔بعد ازں قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لئے ملتوی کردیا گیا۔
پی ٹی آئی کا بڑا یوٹرن، کل قومی اسمبلی اجلاس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ، آج واپس آگئی








