بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

’گائیز بتائیے کہ آپ کو بھابھی کیسی لگی‘، فیملی وی لاگر تنقید کی زد میں

ایک معروف یوٹیوبر، جو پہلے اپنی سادہ اور عام زندگی کی جھلکیاں دکھانے کے لیے جانے جاتے تھے، آج کل فیملی وی لاگنگ کے باعث سخت عوامی تنقید کی زد میں ہیں۔ سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز مسلسل خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں، جہاں ان کے ذاتی لمحات کی نمائش کو اخلاقی حدود سے متجاوز قرار دیا جا رہا ہے۔

حال ہی میں، ایک ویڈیو میں یوٹیوبر نے اپنی نئی نویلی دلہن کا چہرہ پہلی بار عوام کے سامنے لاتے ہوئے ان کا تعارف کرایا اور عوام سے ان کے بارے میں رائے مانگی۔ اس ویڈیو نے سوشل میڈیا صارفین کو سخت غصے میں مبتلا کر دیا، اور شدید تنقیدی تبصرے سامنے آئے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ذاتی زندگی کو اس حد تک منظرِ عام پر لانا اخلاقی اقدار کے منافی ہے اور محض شہرت و پیسہ کمانے کا ایک ذریعہ بن گیا ہے۔

ناقدین نے اس عمل کو ’اخلاق سے عاری‘ اور ’غیر مہذب‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ رجحان معاشرتی روایات اور نجی زندگی کے تقدس کو پامال کر رہا ہے۔ کئی صارفین کا کہنا ہے کہ فیملی وی لاگنگ کے نام پر ذاتی لمحات کی تشہیر سے منفی معاشرتی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خاص طور پر نوجوان نسل کے لیے جو ان مشہور شخصیات کو آئیڈیل سمجھتی ہے۔

اطہر سلیم نے لکھا: ‘پاکستانی یوٹیوبرز کا کانٹینٹ ملاحظہ فرمائیں، جب معاشرے میں فیملی وی لاگنگ کرکے تھیلے کے تھیلے بھرے ہوئے پیسے دکھائے جائیں گے تو یہی ہوگا۔ فیملی کے نام پر گھٹیا ویڈیوز دکھا کر یوٹیوبرز کروڑوں کماتے ہیں اور عوام کو بے وقوف بناتے ہیں، تو معاشرہ اسی طرف جائے گا۔’


نادر بلوچ نے کہا: ‘یہ مسئلہ سارا روٹی کا ہے۔’


فرخ نے کہا: ‘جو لوگ دیکھنا پسند کرتے ہیں، وہی وی لاگرز بنا رہے ہیں۔ پاکستانی ڈرامے اور فلمیں دیکھ لیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کی اشرافیہ اور معاشرتی رویے بھی دیکھ لیں۔’


ایک اور سوشل میڈیا صارف نے کہا: ‘عوام دیکھنا بھی یہی چاہتی ہے۔ پہلے ان کی ویڈیوز پر کوئی ویوز نہیں آتے تھے اور اب دیکھیں۔’


ایک اور صارف نے کہا: ‘عزت اور غیرت سے عاری یہ جاہل لوگ۔’

اس تنازعے نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر مواد کی حدود اور ذاتی زندگی کی نمائش کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ مقبولیت اور منافع کے لیے ذاتی زندگی کو اس طرح عوام کے سامنے لانا نہ صرف سماجی اقدار بلکہ خود ان مشہور شخصیات کی نجی زندگی کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔