پاکستانی فلمی موسیقی کے عظیم معمار، ہدایت کار اور فلسفی خواجہ خورشید انور کو مداحوں سے بچھڑے آج اکتالیس برس بیت گئے، مگر ان کی بنائی ہوئی دھنیں آج بھی سننے والوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔
21 مارچ 1912 کو میانوالی میں پیدا ہونے والے خواجہ خورشید انور نے اپنے فن سے فلمی موسیقی کو ایک نئی شناخت دی۔ ان کے نغموں نے صرف کانوں کو نہیں، روحوں کو بھی چھوا۔ فلمیں کوئل، جھومر، شیریں فرہاد اور ہیر رانجھا ان کے تخلیقی جادو کی وہ مثالیں ہیں جو آج بھی کلاسک کا درجہ رکھتی ہیں۔
ملکہ ترنم نورجہاں، زبیدہ خانم، مہدی حسن اور دیگر بے شمار فنکاروں نے ان کی دھنوں پر گایا اور ان کے سُروں نے ان آوازوں کو امر کر دیا۔
فلسفہ کے طالب علم خواجہ خورشید انور نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے کیا، اور انڈین سول سروس کا امتحان پاس کرنے کے باوجود اپنے انقلابی نظریات کے سبب سرکاری نوکری چھوڑ دی — اور پھر موسیقی کو اپنی زندگی کا مقصد بنا لیا۔
ان کے فن کی قدر صرف عوام نے نہیں، ریاست نے بھی کی۔ انہیں 1955 میں فلم “انتظار” پر بہترین موسیقار اور فلم ساز کے صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا، جب کہ نگار ایوارڈز اور ستارۂ امتیاز بھی ان کے اعزازات میں شامل ہیں۔
30 اکتوبر 1984 کو وہ اس دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر ان کے تخلیق کردہ نغمے آج بھی گواہی دیتے ہیں کہ خواجہ خورشید انور جیسے فنکار صدیوں میں ایک بار پیدا ہوتے ہیں۔ ان کا سُر آج بھی زندہ ہے، وقت جسے مٹا نہیں سکا۔
موسیقی کے جادوگر خواجہ خورشید انور، مداحوں سے بچھڑے 41 برس گزر گئے








