بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

30 سالہ فٹنس انفلوئنسر کا وزن بڑھانے کا تجربہ جان لیوا ثابت ہوا

روس کے 30 سالہ فٹنس انفلوئنسر دمتری نویانزن کا وزن تیزی سے بڑھانے کا تجربہ المناک انجام پر ختم ہو گیا۔ دمتری روزانہ تقریباً 10 ہزار کیلوریز پر مشتمل جنک فوڈ ڈائٹ کے ذریعے وزن بڑھانے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن یہی منصوبہ ان کی موت کا سبب بن گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق دمتری اورینبرگ شہر سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے فالوورز کو دکھانا چاہتے تھے کہ وزن بڑھانے کا طریقہ کس طرح کام کرتا ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو وزن کم کرنے کے پروگرام میں حصہ لینے سے پہلے زیادہ وزن حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے چند ہفتوں تک بے تحاشا جنک فوڈ کھایا اور تقریباً 25 کلوگرام وزن بڑھانے کا منصوبہ بنایا۔
ان کے ڈائٹ پلان میں صبح کے ناشتے میں پیسٹری اور کیک، دوپہر میں مایونیز میں ڈوبے ہوئے موموز، رات کے کھانے میں برگر اور پیزا، اور درمیان میں بھاری اسنیکس جیسے آلو کے چپس شامل تھے۔ صرف ایک ماہ میں ان کا وزن 13 کلوگرام بڑھ کر 105 کلوگرام تک پہنچ گیا۔
دمتری نے 18 نومبر کو انسٹاگرام پر اپنی آخری پوسٹ شیئر کی، جس میں وہ چپس کھاتے ہوئے اپنے “نئے سنگ میل” کا ذکر کر رہے تھے اور ساتھ ہی اپنی طبیعت میں خرابی کا بھی تذکرہ کیا تھا، لیکن کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ ان کی آخری پوسٹ ہوگی۔
موت سے ایک روز قبل انہوں نے اپنا کوچنگ سیشن منسوخ کیا اور دوستوں کو بتایا کہ وہ بیمار ہیں اور ڈاکٹر سے ملنے جا رہے ہیں۔ تاہم اگلے چند گھنٹوں میں نیند کے دوران دل کی حرکت بند ہونے سے دمتری چل بسے۔
طبی ماہرین کے مطابق اگرچہ دمتری بظاہر فٹنس کے لحاظ سے ٹھیک نظر آتے تھے، مگر کئی ہفتوں تک جاری رہنے والی غیر معمولی ہائی کیلوریز ڈائٹ نے ان کے دل اور اندرونی اعضا کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس دوران بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول میں اچانک اضافہ ہوا، جس سے دل پر دباؤ بڑھ گیا اور یہ صورتحال جان لیوا ثابت ہوئی۔
دمتری کی موت سوشل میڈیا صارفین کے لیے ایک سخت انتباہ ہے کہ تیز نتائج یا رجحانات کے لیے اپنی صحت کو خطرے میں ڈالنا کس قدر مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔