اسلام آباد:(نیوزڈیسک) پاکستان کو “ڈیجیٹل نیشن” بنانے کے وزیراعظم کے عظیم وژن کی تکمیل میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کر لیا گیا ہے۔ وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ذیلی ادارے یونیورسل سروس فنڈ (USF)، عالمی سطح پر معروف انٹرنیٹ سوسائٹی، گلوبل ڈیویلپمنٹ انکلوژن پارٹنرشپ، نیا ٹیل اور ڈے مو کے تاریخی اشتراک سے “جھگی والا کمیونٹی نیٹ ورک” کے قیام کا اعلان ایک پروقار تقریب میں کیا گیا۔
اسلام آباد کے مقامی ہوٹل میں منعقدہ پروقار تقریب میں، یونیورسل سروس فنڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر، چوہدری مدثر نوید نے اپنے استقبالیہ خطاب میں یو ایس ایف کی اب تک کی نمایاں کارکردگی پر تفصیلات پیش کیں۔
انہوں نے پنجاب کے ضلع مظفر گڑھ کے دور دراز گاؤں “جھگی والا” میں کمیونٹی نیٹ ورک کے قیام کو وفاقی وزیر برائے آئی ٹی، محترمہ شزا فاطمہ خواجہ کی متحرک قیادت اور واضح ہدایات کا ثمر قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر کی جانب سے واضح ہدایات ہیں کہ پسماندہ علاقوں میں صرف کنیکٹیویٹی فراہم نہ کی جائے، بلکہ مقامی افراد، خصوصاً خواتین کو ڈیجیٹل خواندگی (DIGITAL LITERACY) کے ذریعے کنیکٹیویٹی کے مثبت استعمال سے بھی آگاہ کیا جائے۔ انٹرنیٹ سوسائٹی کے ساتھ یہ منفرد کاوش اسی قومی ایجنڈے کو عملی جامہ پہنانے کی ایک مضبوط کڑی ہے۔
تقریب سے اپنے خطاب میں انٹرنیٹ سوسائٹی کے سینئر ڈائریکٹر نوید حق نے کمیونٹی نیٹ ورک کے کلیدی اہداف اور دیہی ترقی میں انٹرنیٹ سوسائٹی کے مقاصد سے شرکاء کو آگاہ کیا۔تقریب میں پالیسی ڈائیلاگ کا بھی انعقاد کیا گیا جس میں مختلف اداروں کے سینئر رہنماؤں نے شرکت کی۔
پی ٹی اے کے ممبر کمپلائنس خاور صدیق کھوکھر، جی ایس ایم اے کی کنٹری ڈائریکٹر سائرہ فیصل، اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کے وقار حیدر، نیشنل رورل سپورٹ پروگرام کے سہیل منظور، گلوبل ڈیویلپمنٹ انکلوژن پارٹنرشپ کے وقاص حسن، اور نیاٹیل کے عقیل خورشید سمیت دیگر اہم شخصیات نے خطاب کیا۔
مقررین نے دیہی کمیونٹی کو ڈیجیٹل دنیا سے مربوط کرنے کی اہمیت، خواتین کو بااختیار بنانے کیلئے ڈیجیٹل انکلوژن کے تحت اقدامات اور ڈیجیٹل تفریق (DIGITAL DIVIDE) کے خاتمے کیلئے بھرپور کوششوں کی ضرورت پر زور دیا۔
شرکاء نے پسماندہ علاقوں میں کنکٹیویٹی کی فراہمی کیلئے اربوں روپے کے منصوبوں کی تکمیل، دیہاتوں کو ڈیجیٹل دنیا سے منسلک کرنے کی کاوشوں پر یونیورسل سروس فنڈ کے کردار کو شاندار الفاظ میں سراہا۔
کمیونیٹی نیٹ ورک کے قیام اور کنکٹیویٹی کے ذریعے دیہی علاقوں کے افراد کو سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے اس تاریخی شراکت داری کو پاکستان میں ڈیجیٹل ایکویٹی اور دیہی علاقوں کی سماجی و ڈیجیٹل معیشت کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا جا رہا ہے۔









