وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات، سینیٹر Muhammad Aurangzeb نے ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026 کے موقع پر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے فرسٹ ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر Dan Katz سے ملاقات کی، جس میں پاکستان کے معاشی پروگرام اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف مشن ٹیم کی جانب سے ایکسٹینڈڈ فنڈ فسیلٹی (EFF) کے تحت تیسرے جائزے اور ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فسیلٹی (RSF) کے تحت دوسرے جائزے کے مؤثر انعقاد پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹاف لیول معاہدہ کامیابی سے طے پا چکا ہے اور اب اسے حتمی منظوری کے لیے آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے سامنے پیش کیا جانا ہے۔
مزید پڑھیں:
وزیر خزانہ نے حالیہ عالمی و علاقائی کشیدگی کے پاکستان کی معیشت پر پڑنے والے فوری اثرات سے بھی آگاہ کیا، خاص طور پر توانائی کی فراہمی اور لاجسٹکس کے شعبوں میں درپیش مشکلات کا ذکر کیا۔ اس موقع پر انہوں نے حکومتی اقدامات کا خاکہ پیش کیا، جن میں طلب کے بہتر نظم و نسق اور کمزور طبقات کے تحفظ کے لیے ہدفی اور مالیاتی طور پر متوازن سبسڈیز شامل ہیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت ممکنہ ثانوی اثرات، جیسے مہنگائی، اقتصادی ترقی کی رفتار، برآمدات اور ترسیلات زر پر پڑنے والے دباؤ کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے، تاکہ بروقت اور مؤثر فیصلے کیے جا سکیں۔
ملاقات میں آئندہ بجٹ کے حوالے سے بھی تبادلہ خیال کیا گیا، اور آئی ایم ایف مشن کے متوقع دورہ پاکستان کا خیرمقدم کیا گیا، جس کے دوران ٹیکس اور دیگر اہم مالیاتی امور پر مزید پیش رفت متوقع ہے۔
وزیر خزانہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آئی ایم ایف پروگرام کے تحت طے شدہ اصلاحاتی ایجنڈے پر قائم ہے، اور موجودہ عالمی معاشی دباؤ کے باوجود یہ پروگرام ملکی معیشت کے استحکام اور عالمی مالیاتی منڈیوں کے اعتماد کی بحالی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔









