بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایران و وسطی ایشیا سے تجارتی روابط میں پیش رفت: گبد بارڈر ٹرمینل فعال

پاکستان نے علاقائی تجارت کے فروغ کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے گبد بارڈر ٹرمینل (Gabd Border Terminal) کو باقاعدہ طور پر فعال کر دیا ہے، جس سے ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تجارتی روابط کو نئی جہت ملنے کی توقع ہے۔

National Logistics Corporation (این ایل سی) نے اس ٹرمینل کو بین الاقوامی سڑکوں کے ذریعے ترسیلی نظام (TIR) کے تحت فعال کیا ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان سے سامان کی ترسیل اب زیادہ منظم اور مؤثر انداز میں ممکن ہو سکے گی۔

اس پیش رفت کے بعد ایران کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی ایک مختصر، محفوظ اور جدید متبادل کے طور پر سامنے آئی ہے، جو روایتی افغانستان روٹ کے مقابلے میں زیادہ قابلِ بھروسا تصور کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق، یہ نیا راستہ نہ صرف فاصلے کو کم کرتا ہے بلکہ لاجسٹکس کے اخراجات میں بھی نمایاں کمی لاتا ہے۔

اس سنگِ میل کی عملی مثال اس وقت سامنے آئی جب Karachi سے Tashkent کے لیے گوشت کے کنٹینرز کامیابی سے گبد ٹرمینل کے ذریعے روانہ کیے گئے۔ کسٹم کلیئرنس کے بعد یہ کھیپ TIR فریم ورک کے تحت ایران کے راستے ازبکستان پہنچائی جا رہی ہے، جسے ترجیحی بنیادوں پر ہینڈل کیا گیا۔

مزید پڑھیں:وزیر خزانہ کی آئی ایم ایف حکام سے اہم ملاقات، معاشی استحکام اور پروگرام کے تسلسل پر تبادلہ خیال

این ایل سی اس سے قبل بھی چین، ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ متعدد تجارتی راہداریوں کو فعال کر چکی ہے۔ گبد بارڈر ٹرمینل کی تعمیر مارچ 2024 میں پاک-ایران تجارت کو باضابطہ اور منظم بنانے کے لیے کی گئی تھی، جو اب عملی طور پر ثمر آور ثابت ہو رہی ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اسٹریٹیجک اقدام کے بعد چین کے ساتھ ساتھ وسطی ایشیا میں بھی پاکستانی برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ان کے مطابق، یہ روٹ پاکستان کو علاقائی تجارت کا ایک اہم مرکز بنانے میں مدد دے گا اور افغانستان پر انحصار کم ہو جائے گا۔

مزید برآں، Gwadar Port کے قریب واقع گبد-ریمدان راہداری مستقبل میں ایک بڑی تجارتی گزرگاہ کے طور پر ابھر سکتی ہے، جو پاکستان کو وسطی ایشیائی منڈیوں تک براہِ راست اور مؤثر رسائی فراہم کرے گی۔