بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

پاکستان غزہ میں قیام امن میں حصہ لینے کے لیے تیار، حماس کو غیر مسلح کرنے کی کوشش میں شامل نہیں: نائب وزیراعظم اسحاق ڈار

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان غزہ میں صرف قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی بھی کوشش میں شریک نہیں ہوگا۔
دفتر خارجہ میں پریس کانفرنس کے دوران اسحاق ڈار نے بتایا کہ متحدہ عرب امارات کے صدر کا حالیہ دورۂ پاکستان انتہائی کامیاب رہا اور صدر یو اے ای اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ہونے والی بات چیت مثبت اور تعمیری رہی۔
انہوں نے کہا کہ سعودی عرب، چین اور متحدہ عرب امارات نے اسٹیٹ ڈپازٹس کے ذریعے پاکستان کی مالی معاونت کی ہے۔ متحدہ عرب امارات جنوری میں 2 ارب ڈالر کے رول اوور کے لیے بھی تیار ہے، جبکہ بقایا 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی توقع بھی ہے۔ اس کے علاوہ، یو اے ای پاکستان کی فوجی فاؤنڈیشن میں حصہ لینے پر بھی آمادہ ہے۔
اسحاق ڈار نے بتایا کہ پی ڈی ایم حکومت کے آغاز میں پاکستان سفارتی تنہائی کا شکار تھا، مگر آج ملک کا عالمی وقار بحال ہو چکا ہے۔ انہوں نے چار روزہ جنگ کے دوران پاکستان کی مسلح افواج کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ بھارتی دعوے بے بنیاد ثابت ہوئے اور بھارت کی مسلسل غلط بیانی اس کی ساکھ کو نقصان پہنچا چکی ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا اور واضح پیغام دیا کہ پاکستان نے پہل نہیں کی۔ انہوں نے پلوامہ اور پہلگام جیسے واقعات کے بہانے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر اور سندھ طاس معاہدے کو نشانہ بنانے کی کوشش کو ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ جب تک کشمیری عوام کے حقِ خود ارادیت کے مطابق مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا، جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
اسحاق ڈار نے مزید کہا کہ امریکا کے ساتھ تعلقات 2025 میں دوبارہ بحال ہوئے ہیں، پاکستان اور امریکا کے درمیان تجارت کا حجم 13.28 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اور پاکستان کو 6 ارب ڈالر سے زائد کا ٹریڈ سرپلس حاصل ہے۔ انہوں نے انسداد دہشت گردی میں پاکستان اور امریکا کے درمیان تعاون کو بھی سراہا اور بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت سنبھالی اور بارہ برس بعد متفقہ قرارداد منظور کرائی، جس سے فلسطین اور غزہ کے معاملے پر عالمی سطح پر پاکستان کا مؤثر کردار سامنے آیا۔
نائب وزیراعظم نے واضح کیا کہ پاکستان صرف قیامِ امن کی کوششوں میں حصہ لے گا اور غزہ میں حماس کو غیر مسلح کرنے کی کسی کارروائی کا حصہ نہیں بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیوکلیئر اور میزائل پروگرام نے پاکستان کو ناقابل تسخیر بنایا ہے، اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ملک معاشی طور پر مضبوط بنے تاکہ پاکستان مسلم امہ کی قیادت کے قابل ہو۔