امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور بھاری لیوریج پوزیشنز کے باعث گزشتہ ہفتے پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کوئی نیا ریکارڈ قائم نہ ہو سکا۔ سرمایہ کاروں کے محتاط رویے کے سبب مارکیٹ میں ہفتہ بھر اتار چڑھاؤ رہا، تاہم اختتام مثبت رجحان پر ہوا۔
شرح سود میں ممکنہ کمی کی توقعات پر دو کاروباری سیشنز کے دوران انڈیکس نے 1 لاکھ 85 ہزار پوائنٹس کی سطح عبور کی، لیکن مجموعی طور پر معاشی اشاریوں میں بہتری اور مثبت بنیادی عوامل کو مارکیٹ نے زیادہ اہمیت نہ دی۔ اس کے باوجود دفاعی مصنوعات کے برآمدی معاہدوں کی خبروں سے سرمایہ کاروں کے جذبات کو سہارا ملا۔
ہفتہ وار کاروبار کے دوران مجموعی طور پر تین سیشنز میں مندی جبکہ دو سیشنز میں تیزی دیکھی گئی۔ انشورنس کمپنیوں، میوچل فنڈز اور انفرادی سرمایہ کاروں کی خرید و فروخت سرگرم رہی، جبکہ لیکویڈیٹی کی مسلسل آمد نے مارکیٹ کو مستحکم رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
کے ایس ای 100 انڈیکس ہفتے کے دوران 185,209 پوائنٹس کی بلند ترین سطح تک پہنچا، جبکہ کم ترین سطح 180,590 پوائنٹس رہی۔ افراطِ زر اور کرنٹ اکاؤنٹ کے قابو میں رہنے سے مجموعی سرمایہ کاری ماحول مثبت رہا۔ ایکسپلوریشن، بینکنگ اور سیمنٹ سیکٹر میں ممکنہ نمو کی توقعات نے بھی کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کیا۔
ریکوڈک مائننگ منصوبے میں سرمایہ کاری کے حجم میں اضافے کی توقعات سے سرمایہ کاروں کا اعتماد مزید مضبوط ہوا۔ ہفتہ وار تیزی کے باعث حصص کی مجموعی مالیت میں 2 کھرب 6 ارب 81 کروڑ روپے سے زائد کا اضافہ ہوا، جس کے بعد مارکیٹ کی مجموعی سرمایہ کاری بڑھ کر 209 کھرب 74 ارب روپے سے تجاوز کر گئی۔
کاروباری ہفتے کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 689.16 پوائنٹس اضافے کے ساتھ 185,098.83 پوائنٹس پر بند ہوا۔ کے ایس ای 30 انڈیکس 143.87 پوائنٹس بڑھ کر 56,737.75 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسی طرح کے ایس ای آل شیئر انڈیکس 1,123.77 پوائنٹس اضافے سے 111,509.35 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جبکہ کے ایم آئی 30 انڈیکس 1,664.31 پوائنٹس بڑھ کر 260,872.72 پوائنٹس پر بند ہوا۔
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نئے ریکارڈ قائم نہ ہو سکے، ہفتہ مثبت اختتام پر ختم








