بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

صدر ٹرمپ کی ایران سے بات کرنے کی اچانک پہل، امریکی میڈیا نے رپورٹ جاری کر دی

امریکی میڈیا کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران سے بات کرنے کا خیال گزشتہ ہفتے فلوریڈا روانگی کے دوران اچانک آیا۔ رپورٹ کے مطابق، روانگی سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا کہ “جب آپ دوسرے فریق کو تباہ کر رہے ہوتے ہیں تو سیزفائر نہیں کرتے”، لیکن تین دن کی مہلت اور ایران کے پراسرار اہلکار سے گفتگو کے بعد ان کی سوچ بدل گئی۔
ٹینیسی میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں معاملہ پرامن طریقے سے حل ہو اور ہم اس سمت میں قدم بڑھانے جا رہے ہیں۔
امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اب تجویز یہ ہے کہ پاکستان رواں ہفتے ایران اور امریکا کے درمیان ملاقات کی میزبانی کرے، جس میں ممکنہ طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس شرکت کر سکتے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا کے مؤقف میں یہ تبدیلی خلیجی اتحادیوں کی وارننگز کے بعد آئی، جن کا کہنا تھا کہ ایران میں توانائی کے مراکز پر حملہ کشیدگی میں خطرناک اضافہ کر سکتا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق مذاکرات کا اعلان پیر کو امریکی مارکیٹ کھلنے سے صرف دو گھنٹے قبل کیا گیا، جس نے وال اسٹریٹ میں تیزی پیدا کی اور برینٹ کروڈ کی قیمت میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔ یہ عوامل صدر ٹرمپ اور ان کے مشیروں کے لیے تشویش کا باعث بنے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ امریکا ایران کے توانائی کے اسٹرکچر پر پانچ روز کے لیے حملے روک دے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ “میں اور مجتبیٰ خامنہ ای مل کر آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر سکتے ہیں”۔
دوسری جانب ایران نے امریکا کے ساتھ کسی بھی قسم کے مذاکرات کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب وہ “آنکھ کے بدلے آنکھ” کی پالیسی نہیں اپنائیں گے اور امریکا کے لیے پانچ اسٹریٹجک شرائط بھی پیش کی ہیں۔