بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کی آزادی اظہار رائے پر پابندی کیوں؟ عدالت میں مقدمہ دائر

ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے امریکی ریاست کولوراڈو کے خلاف نیا مقدمہ دائر کر دیا ہے، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ نئی اے آئی(artificial intelligence) قانون سازی چیٹ بوٹس کی اظہارِ رائے کی آزادی کو محدود کر رہی ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایلون مسک کی کمپنی نے عدالت میں دائر درخواست میں کہا ہے کہ ریاستی قانون کے تحت اے آئی سسٹمز، خاص طور پر اس کے چیٹ بوٹ گروک کے کام کرنے کے طریقہ کار پر غیر ضروری پابندیاں عائد کی جا رہی ہیں۔

یہ تنازع سینیٹ بل 24-205 کے گرد گھوم رہا ہے، جس کا مقصد ملازمت، رہائش اور مالیاتی شعبوں میں الگورتھمک امتیاز کو ختم کرنا ہے۔ تاہم ایکس اے آئی کے مطابق یہ قانون کمپنی کو اپنے چیٹ بوٹ کے جوابات اور رویے میں تبدیلی پر مجبور کرتا ہے، جو درحقیقت اے آئی کی ‘آزادی اظہار’ کو متاثر کرتا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ قانون ایک متضاد صورتحال پیدا کرتا ہے، کیونکہ ایک طرف مساوی سلوک کی بات کی جاتی ہے جبکہ دوسری طرف ماضی کے امتیاز کو دور کرنے کے لیے مختلف رویہ اختیار کرنے کی اجازت دی جاتی ہے، جو خود قانون کے بنیادی مقصد سے متصادم ہے۔

مزیدپڑھیں: مصنوعی ذہانت کے چیٹ بوٹس کی آزادی اظہار رائے پر پابندی کیوں؟ عدالت میں مقدمہ دائر

عدالتی دستاویزات میں ایکس اے آئی نے مؤقف اپنایا کہ اگر اس قانون پر عمل کیا گیا تو اس کے ‘حقیقت پر مبنی’ مصنوعی ذہانت کے وژن کو نقصان پہنچ سکتا ہے، جبکہ اس سے جدید ٹیکنالوجی کے شعبے میں کام کرنے والے ڈویلپرز کے لیے بھی مشکلات پیدا ہوں گی۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ ایکس اے آئی نے اے آئی قوانین کو عدالت میں چیلنج کیا ہو۔ اس سے قبل کمپنی نے امریکی ریاست کیلیفورنیا میں شفافیت سے متعلق قوانین کے خلاف بھی مقدمہ دائر کیا تھا، مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ ایسے قوانین کمپنیوں کو حساس معلومات ظاہر کرنے پر مجبور کرتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق یہ مقدمہ امریکا میں اے آئی کے ضوابط سے متعلق جاری وسیع بحث کا حصہ ہے، جہاں یہ سوال اہم ہوتا جا رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو کن قوانین کے تحت چلایا جائے۔ اسی تناظر میں ڈیوڈ سیکس نے تجویز دی ہے کہ مختلف ریاستی قوانین کے بجائے ایک قومی سطح کا جامع فریم ورک متعارف کرایا جائے۔