ڈونلڈ ٹرمپ(Donald Trump) نے ایران کے خلاف جوہری ہتھیار استعمال نہ کرنے کا واضح اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی بھی ملک کسی کے خلاف ایٹمی ہتھیار استعمال نہیں کرسکتا، ایسے سوالات غیر سنجیدہ اور احمقانہ ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا ایران میں جوہری ہتھیار استعمال کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا، تاہم وہ اپنے فوجی اہداف میں نمایاں کامیابی حاصل کرچکا ہے۔ ان کے مطابق امریکا تقریباً 75 فیصد فوجی اہداف حاصل کرچکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز پر امریکا کا مکمل کنٹرول ہے، تاہم وہ اسے کھولنے کے لیے تیار ہیں تاکہ عالمی تجارت متاثر نہ ہو۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں (مائنز) بچھانے کی کوشش کی تو ایسی ایرانی کشتیوں کو تباہ کردیا جائے گا۔
امریکی صدر نے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ابھی بھی ایران کے ساتھ ڈیل کرسکتا ہے اور تہران کو بہتر معاہدے کے لیے موقع دیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ میرے پاس دنیا جہاں کا وقت ہے، لیکن ایران کے پاس نہیں، ان کے لیے وقت کم ہے۔
مزیدپڑھیں:کیا مچھر بھی ملیریا کے خاتمے کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟ نئی تحقیق نے سب کو چونکا دیا
انہوں نے ایران کی داخلی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران خود اپنے رہنما کے حوالے سے غیر یقینی کا شکار ہے اور اندرونی انتشار کا سامنا کر رہا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق اقتصادی پابندیوں اور ناکہ بندی نے ایرانی حکومت کو شدید مشکلات سے دوچار کردیا ہے اور اسے معاشی طور پر کمزور کر دیا گیا ہے۔









