ایرانی صدر مسعود پزشکیان(Masoud Pezeshkian) نے کہا ہے کہ امریکا پر تاریخی عدم اعتماد جاری مذاکرات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
ایران نے امریکا کے رویے پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دھمکیوں، بندرگاہوں کی بندش اور غیر سنجیدہ طرزِ عمل نے مذاکرات کے عمل کو متاثر کیا ہے، جبکہ آبنائے ہرمز کی بحالی کو بھی واضح شرائط سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا کی جانب سے دھمکیاں، بندرگاہوں کی بندش اور غیر سنجیدہ رویہ مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور معاہدوں کا خیرمقدم کیا ہے اور آئندہ بھی کرتا رہے گا، تاہم دنیا امریکا کی مسلسل بیان بازی، دعوؤں اور عملی اقدامات کے درمیان تضادات کو واضح طور پر دیکھ رہی ہے۔
مزیدپڑھیں:فضیلہ قاضی نے ساس کے رویوں کی اصل وجہ بیان کر دی
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ بندی کی کھلی خلاف ورزی جاری رہی تو آبنائے ہرمز کو کھولنا ممکن نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ مکمل جنگ بندی اسی صورت میں قابلِ قبول ہوگی جب سمندری ناکا بندی ختم کی جائے گی۔
ادھر تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ کے ڈپٹی اسپیکر حمید رضا حاجی بابائی نے بتایا کہ آبنائے ہرمز سے حاصل ہونے والی ٹول ٹیکس کی آمدن سینٹرل بینک میں جمع کرا دی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے ٹول ٹیکس وصولی کے طریقہ کار اور جمع شدہ رقم کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔









