پاور ڈویژن(Power Division) کے ترجمان نے 24 اپریل کی رات پیک اوقات میں بجلی کی صورتحال سے متعلق بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں بجلی کی طلب میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
ترجمان کے مطابق تربیلا ڈیم سے رات کے اوقات میں پانی کے اخراج میں اضافے کے باعث پن بجلی کی پیداوار میں بھی بہتری آئی۔
ترجمان نے بتایا کہ گزشتہ رات پیک ٹائم کے دوران مجموعی پن بجلی کی پیداوار 6000 میگاواٹ رہی، جبکہ ملک کی کل پن بجلی پیدا کرنے کی استعداد 11500 میگاواٹ ہے۔ ان کے مطابق پیداوار میں اضافے اور جنوبی علاقوں سے نیشنل گرڈ کے استحکام کے باعث مزید بجلی سسٹم میں شامل کرنا ممکن ہوا، جس کے نتیجے میں اضافی 100 میگاواٹ بجلی کی فراہمی میں آسانی پیدا ہوئی۔
مزیدپڑھیں:پی ایس ایل شائقین کیلئے خوشخبری، وزیر اعظم نے بڑا اعلان کردیا
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے جنوبی حصوں سے مجموعی طور پر 500 میگاواٹ بجلی ترسیل کی گئی، جس سے سسٹم کو سہارا ملا۔ تاہم بڑھتی ہوئی طلب کے پیش نظر بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے رات کے پیک اوقات میں ایک سے دو گھنٹے تک لوڈ مینجمنٹ کی، جو کہ اضافی طلب کے باوجود محدود سطح پر رکھا گیا۔
ترجمان کے مطابق زیادہ نقصانات والے فیڈرز پر پالیسی کے تحت اکنامک لوڈ مینجمنٹ جاری ہے، جس کا پیک آورز میں ہونے والی لوڈ مینجمنٹ سے کوئی تعلق نہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ یہ اقدام صرف ان علاقوں تک محدود ہے جہاں لائن لاسز زیادہ ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ عالمی حالات کے باعث ایل این جی کی عدم دستیابی کی وجہ سے 5500 میگاواٹ کے پاور پلانٹس سے بجلی پیدا نہیں ہو رہی، جس سے سسٹم پر دباؤ بڑھا ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ جیسے ہی ایل این جی دستیاب ہوگی اور پانی کے اخراج میں مزید اضافہ کیا جائے گا، شام کے اوقات میں بجلی کے شارٹ فال کو مکمل طور پر ختم کیا جا سکے گا۔









