بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

جین زی میں اسمارٹ فون کی جگہ ڈیجیٹل اور پولارائیڈ کیمرے کیوں مقبول ؟

اسمارٹ فونز کے دور میں، جہاں ہر تصویر چند لمحوں میں کھینچ کر ایڈٹ اور سوشل میڈیا پر شیئر کر دی جاتی ہے، وہیں ایک پرانی ٹیکنالوجی ایک بار پھر نوجوانوں میں مقبولیت حاصل کر رہی ہے۔ فلم اور ڈیجیٹل کیمرےCAMRA، جو کبھی 1990 اور 2000 کی دہائی کی یادگار سمجھے جاتے تھے، اب جین زی کی پسندیدہ اشیا میں شامل ہوگئے ہیں۔

یہ کیمرے اب ساحلِ سمندر کی سیر، سالگرہ کی تقریبات، موسیقی کے کنسرٹس، روڈ ٹرپس، شادیوں اور یہاں تک کہ دوستوں کے ساتھ عام ملاقاتوں میں بھی نمایاں طور پر نظر آتے ہیں۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ اسمارٹ فون میں موجود ہزاروں تصاویر کے برعکس فلم یا ڈیجیٹل کیمرے سے لی گئی ہر تصویر سوچ سمجھ کر کھینچی جاتی ہے، اس لیے اس کی اپنی ایک الگ اہمیت ہوتی ہے۔ Textiles& Nonwovens

ماہرین کے مطابق جین زی کے لیے یہ کیمرے صرف تصاویر محفوظ کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ لمحے کو بھرپور انداز میں جینے کا ایک طریقہ بھی ہیں۔ چونکہ ایک فلم رول میں صرف 27 یا 36 تصاویر لینے کی گنجائش ہوتی ہے، اس لیے ایک ہی سیلفی کی درجنوں تصاویر بنانے یا ہر تصویر کے بعد اسکرین پر نتیجہ دیکھنے کی عادت ختم ہو جاتی ہے۔ تصویر لینے کے بعد کیمرہ بند کر دیا جاتا ہے اور لوگ دوبارہ اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

مزید پڑھیں:کوہاٹ میں طوفانی بارش: مکان گرنے سے 4 افراد جاں بحق، 11 زخمی، اسپتال منتقل

اس تجربے کا ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ تصویر فوراً دیکھنے کے بجائے کئی دن یا بعض اوقات کئی ہفتوں بعد سامنے آتی ہے، جس سے تجسس اور انتظار کا احساس برقرار رہتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل اسکرین استعمال کرنے والی نسل کے لیے فلم فوٹوگرافی صبر اور لمحوں سے حقیقی لطف اندوز ہونے کا منفرد موقع فراہم کرتی ہے۔