بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ٹیسٹ کرکٹر ظفر گوہر پاکستان چھوڑ کر کیوں گئے، وجہ خود بتادی

انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں اسپنر کے لیے چند روایتی تصورات پائے جاتے ہیں کہ عمر کے ساتھ کارکردگی میں نکھار آتا ہے اور ٹیم میں ہنے کے لیے بیٹنگ صلاحیت بھی ضروری ہوتی ہے۔

مڈل سیکس کے پاکستانی نژاد اسپنر ظفر گوہر(Zafar Gohar) اب ان دونوں خصوصیات کے ساتھ ایک تیسری اہم شرط بھی پوری کر چکے ہیں، یعنی وہ اب انگلینڈ کے لیے کھیلنے کے اہل ہیں۔

پاکستان کی جانب سے ایک ون ڈے اور ایک ٹیسٹ میچ کھیلنے والے 31 سالہ ظفر گوہر اب برطانوی شہریت حاصل کرنے کے بعد انگلینڈ ٹیم میں جگہ بنانے کے خواہشمند ہیں۔

انہوں نے 2025 میں گلوسسٹرشائر سے مڈل سیکس کا رخ کیا، جہاں وہ مسلسل بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔

اگرچہ اس سیزن میں ان کی وکٹیں نسبتاً کم رہی ہیں لیکن بیٹنگ میں 164 رنز، بشمول 83 رنز کی ایک اہم اننگ ان کی آل راؤنڈ صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے۔

ظفر گوہر کا کہنا ہے کہ انگلینڈ میں اسپن بولنگ آسان نہیں، لیکن محنت اور درست حکمت عملی سے کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔

مزیدپڑھیں:ملک میں بجلی کی طلب میں اضافہ، پیک اوقات میں دباؤ برقرار

وہ لارڈز جیسے میدان پر بھی مؤثر بولنگ کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں جہاں عام طور پر اسپنرز کو کم مدد ملتی ہے۔

انہوں نے اپنے کیریئر میں پاکستان کی جانب سے محدود مواقع ملنے پر مایوسی کا اظہار بھی کیا۔

ان کے مطابق کاؤنٹی کرکٹ میں شاندار کارکردگی کے باوجود انہیں نظرانداز کیا گیا جس کے بعد انہوں نے انگلینڈ میں اپنے کیریئر کو آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا۔

ظفر گوہر پرامید ہیں کہ اگر انہیں انگلینڈ کی نمائندگی کا موقع ملا تو وہ اس سے بھرپور فائدہ اٹھائیں گے اور اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوائیں گے۔