غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق روسی اسٹریٹیجک میزائل فورسز کے کمانڈر سرگئی کاراکائیف نے منگل کے روز صدر ولادیمیر پیوٹن کو کامیاب تجربے سے متعلق بریفنگ دی۔
صدر پیوٹن نے کہا کہ روس رواں سال کے اختتام تک سرمت میزائل کو باقاعدہ طور پر فوجی سروس میں شامل کر لے گا۔
جوہری میزائلوں سے لیس امریکا کی اوہائیو کلاس آبدوز جبرالٹر پہنچ گئی
انہوں نے سرمت کو ’دنیا کا سب سے طاقتور‘ جوہری میزائل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہزاروں میل دور امریکا اور یورپ میں اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
روسی ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والے بیان میں پیوٹن نے کہا کہ اس میزائل کے وارہیڈ کی صلاحیت مغربی ممالک کے کسی بھی مساوی نظام سے چار گنا زیادہ ہے، جبکہ اس کی رینج 35 ہزار کلومیٹر سے زائد ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ سرمت میزائل ’موجودہ اور مستقبل کے تمام میزائل دفاعی نظاموں بچ نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے‘۔
سرگئی کاراکائیف نے کہا کہ سرمت میزائل سسٹم سے لیس لانچرز کی تعیناتی روسی فوج کی جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ کرے گی اور اسٹریٹیجک دفاعی اہداف کے حصول میں مدد دے گی۔









