بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ان ٹارگٹڈ کراس سبسڈی ختم، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف(IMF) کی ایک اور اہم شرط پر عمل درآمد کی یقین دہانی کراتے ہوئے یکم جنوری 2027 سے بجلی کے بلوں پر دی جانے والی غیر ہدف شدہ کراس سبسڈی ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

سرکاری ذرائع کے مطابق اس اقدام کے بعد تمام صارفین سے بجلی کی مکمل لاگت وصول کی جائے گی، جبکہ سبسڈی صرف مستحق گھرانوں تک محدود کر دی جائے گی۔ یہ سہولت اب براہ راست بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ذریعے فراہم کی جائے گی۔

سبسڈی نظام میں بڑی تبدیلی

مجوزہ پلان کے تحت 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین کو دی جانے والی عمومی رعایت ختم کر دی جائے گی۔ اس کے بجائے صرف وہی افراد رعایتی نرخوں سے فائدہ اٹھا سکیں گے جو بجلی کے بل پر موجود QR کوڈ کے ذریعے BISP میں رجسٹریشن مکمل کریں گے۔

حکومت نے آئی ایم ایف کو یقین دہانی کرائی ہے کہ آئندہ مالی سال سے پاور سیکٹر میں موجود 500 ارب روپے سے زائد کی سبسڈی بتدریج بی آئی ایس پی کے نظام میں منتقل کر دی جائے گی۔

نظام میں موجود خامیوں کا اعتراف

پاور ڈویژن کے مطابق موجودہ نظام میں بعض خامیوں کی وجہ سے ایک سے زائد میٹرز کے ذریعے غیر ضروری طور پر رعایتی ٹیرف حاصل کیا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں پروٹیکٹڈ صارفین کی تعداد بڑھ کر تقریباً 2 کروڑ 20 لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

مزیدپڑھیں:امریکی صدر کا پاکستان پر بطور ثالث مکمل اعتماد کا اظہار

نئے نظام میں ایسے تمام صارفین کی نشاندہی کی جائے گی جو ایک سے زیادہ میٹرز کے ذریعے سبسڈی کا فائدہ اٹھا رہے ہیں، اور انہیں اس سہولت سے خارج کر دیا جائے گا۔

ڈیٹا انٹیگریشن اور ٹیسٹنگ

حکومت بجلی صارفین کے ڈیٹا کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے ساتھ منسلک کرنے پر کام کر رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق نیا سبسڈی فریم ورک اگست تک آزمائشی بنیادوں پر چلایا جائے گا جبکہ اس کا مکمل نفاذ یکم جنوری 2027 سے کیا جائے گا۔

ماہرین کی رائے

توانائی ماہرین کے مطابق یہ تبدیلیاں پاور سیکٹر کے مالی خسارے کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں، تاہم اس کا براہ راست اثر عام صارفین کے بجلی بلوں پر پڑے گا، خاص طور پر وہ طبقہ جو اب تک عمومی سبسڈی سے فائدہ اٹھاتا رہا ہے۔

اضافی اصلاحات

حکومت نے آئی ایم ایف کو یہ بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی اور موسمیاتی ترجیحات کا حصہ 30 فیصد تک بڑھایا جائے گا، تاکہ توانائی اور ترقیاتی پالیسیوں کو زیادہ پائیدار بنایا جا سکے۔