بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

حکومت نے کبھی بھی سولر صارفین کی حوصلہ شکنی نہیں کی،اویس لغاری

وفاقی وزیر اویس لغاری(Awais Laghari) نے کہا ہے کہ حکومت نے کبھی بھی سولر صارفین کی حوصلہ شکنی نہیں کی اور نہ ہی سولر پالیسی میں ایسا کوئی اقدام شامل ہے جو قابلِ اعتراض ہو۔

انہوں نے کہا کہ سولر سے متعلق پالیسی کے حوالے سے جو بھی تاثر دیا جا رہا ہے وہ درست نہیں، اور عوام میں اس طرح کی باتیں کرنے سے غلط فہمی پیدا ہوتی ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی شخص ایک لاکھ روپے کی سولر انویسٹمنٹ کرتا ہے تو وہ چند ہی سالوں میں اپنی لاگت واپس حاصل کر لیتا ہے۔

سولر پالیسی پر وضاحت

اویس لغاری کے مطابق سولر پالیسی میں ایسی کوئی شق موجود نہیں جس میں سولر توانائی کی حوصلہ شکنی کی گئی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا مقصد قابلِ تجدید توانائی کو فروغ دینا ہے نہ کہ اس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا۔

مزیدپڑھیں:دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بے شمار قربانیاں دیں ،عطا تارڑ

انہوں نے واضح کیا کہ نیٹ میٹرنگ کے حوالے سے بھی پہلے سے موجود صارفین کے لیے کوئی منفی تبدیلی نہیں کی گئی اور ان کے حقوق محفوظ ہیں۔

آئی پی پیز اور توانائی اصلاحات

وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت نے آئی پی پیز کے ساتھ معاہدوں پر نظرثانی کر کے تقریباً 3 ہزار 400 ارب روپے کے بوجھ میں کمی کی ہے، جس سے معیشت پر دباؤ کم ہوا ہے۔ ان کے مطابق اس اقدام کے بعد توانائی شعبے میں نمایاں بہتری آئی ہے۔

سولر صارفین سے متعلق مؤقف

اویس لغاری نے کہا کہ نیٹ میٹرنگ استعمال کرنے والے صارفین میں کوئی غریب طبقہ شامل نہیں ہوتا، بلکہ یہ وہ افراد ہیں جو پہلے ہی مالی طور پر نسبتاً بہتر حالت میں ہوتے ہیں اور سولر سسٹم نصب کرنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ حکومت کا مقصد توانائی کے شعبے میں توازن پیدا کرنا اور سسٹم کو زیادہ پائیدار بنانا ہے، جبکہ سولر انرجی کے فروغ کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رہیں گے۔