بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

خیبر پختونخوا میں گورننس پر سوالات

خیبر پختونخوا (Khyber Pakhtunkhwa) میں گورننس کی صورتحال پر سنجیدہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ صوبے میں کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات مسلسل بڑھ رہے ہیں، جبکہ عوامی مسائل حل ہونے کے بجائے مزید گھمبیر دکھائی دیتے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ سرکاری وسائل کو عوامی فلاح کے بجائے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے اور شاہانہ اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے وقت میں جب عوام مہنگائی، بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا سامنا کر رہے ہیں، حکومتی ترجیحات پر سوال اٹھنا فطری امر ہے۔

مزید پڑھیں؛نیپالی کوہ پیما نے 32 ویں بار ماؤنٹ ایورسٹ سر کرکے تاریخ رقم کر دی

حال ہی میں کابینہ کے حجم میں اضافے نے بھی نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اپوزیشن اور سیاسی مبصرین کے مطابق وزراء اور مشیروں کی تعداد بڑھانے سے گورننس خود بخود بہتر نہیں ہو جاتی، خاص طور پر اس صورت میں جب گزشتہ بارہ برسوں میں انتظامی کارکردگی میں واضح بہتری نظر نہ آئی ہو۔

تنقید کرنے والوں کا مؤقف ہے کہ کئی تقرریاں میرٹ کے بجائے سیاسی بنیادوں پر کی جا رہی ہیں، جس کے باعث حکومتی نظام مزید کمزور ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔ ان کے مطابق اگر فیصلوں میں اہلیت، شفافیت اور جوابدہی کو ترجیح نہ دی گئی تو صوبے کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ خیبر پختونخوا اس وقت جن انتظامی اور مالی مشکلات کا شکار ہے، ماضی میں اس کی مثال کم ہی ملتی ہے، اور عوام اب عملی نتائج دیکھنا چاہتے ہیں، محض دعوے نہیں۔