(Muslim community)واشنگٹن ، امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں ایک ہولناک فائرنگ کے واقعے نے پوری مسلم کمیونٹی کو ہلا کر رکھ دیا، اس حملے میں ایک مسلم گارڈ کی بہادری نے سینکڑوں بچوں کی جان بچا لی، تاہم 3 قیمتی جانیں چلی گئیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر میں مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق ہوئے، پولیس نے اس واقعے کو ہیٹ کرائم یعنی نفرت انگیز جرم قرار دیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
سان ڈیاگو کے پولیس چیف سکاٹ واہل نے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ حملے کے وقت مسجد کے تعلیمی مرکز میں بڑی تعداد میں بچے موجود تھے۔ وہاں تعینات ایک مسلمان گارڈ نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر مسلح حملہ آوروں کا راستہ روکا اور بچوں کو محفوظ مقام پر منتقل کیا، جس سے ایک بڑی تباہی ٹل گئی۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ شوٹرز نے مسجد میں اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں 3 افراد جان کی بازی ہار گئے، واردات کے بعد حملہ آور مسجد سے چند بلاکس دور بھاگ گئے جہاں انہوں نے پولیس کے پہنچنے سے قبل ہی خود کو گولی مار کر ہلاک کرلیا۔
بتایا گیا ہے کہ اگرچہ مسجد کو براہِ راست کبھی کوئی دھمکی موصول نہیں ہوئی تھی، لیکن تفتیشی افسران اس علاقے میں جاری عمومی نفرت انگیز بیان بازی سے آگاہ تھے، حملے سے تقریباً 2 گھنٹے قبل ایک ملزم کی والدہ نے پولیس کو فون کر کے مطلع کیا تھا کہ ان کا بیٹا لاپتہ ہے اور وہ کسی مشکوک سرگرمی میں ملوث ہو سکتا ہے، پولیس اس حملے کے پیچھے موجود محرکات اور ملزمان کے دیگر روابط کی تفتیش کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں:بھارت میں ایک ہفتے میں دوسری بار پیٹرول اور ڈیزل مہنگا
معلوم ہوا ہے کہ اسلامک سینٹر سان ڈیاگو کاؤنٹی کی سب سے بڑی مسجد اور کمیونٹی سینٹر ہے جہاں یومیہ سینکڑوں افراد عبادت اور تعلیم کے لیے آتے ہیں، اس واقعے کے بعد پورے امریکہ میں مساجد اور اسلامی مراکز کی سیکیورٹی میں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
مسلم کمیونٹی کے رہنماؤں نے اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ نفرت انگیز پروپیگنڈے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تدارک ہو سکے۔









