طالبان رجیم (Taliban regime)نےتنقیدی آوازیں دبانےکیلئےملک گیر ڈیجیٹل بلیک آؤٹ اورانٹرنیٹ بندش جیسےہتھکنڈےشروع کردیئے۔
افغان جریدہ ہشت صبح کےمطابق نظریاتی احتساب،جبراوردھمکیوں کےبعد ڈیجیٹل بلیک آؤٹ طالبان رجیم کےایجنڈے کا حصہ بن چکا ہے۔
طالبان رجیم کامعلومات کےآزادانہ بہاؤکوروکنےکیلئےڈیجیٹل بلیک آوٹ کامقصدجبری نظام کا تحفظ اوراختلاف رائےکودبانا ہے کابل سےشروع ڈیجیٹل بلیک آؤٹ منصوبہ درحقیقت طالبان رجیم کیخلاف عوامی یا ڈیجیٹل مزاحمت کچلنےکی کوشش ہے۔
مزیدپڑھیں:پانچ برس میں خلیجی ممالک سے ایک لاکھ 64 ہزار پاکستانی بے دخل
افغانستان میں انٹرنیٹ محدودکرنےکا بنیادی مقصدانتظامی ناکامیوں،پرتشدد کارروائیوں اورشہریوں پرمظالم کوچھپاناہے ، طالبان رجیم کی جانب سےانٹرنیٹ کی بندش نفسیاتی جنگ کاحصہ ہے،مقصد دنیاسے افغانستان کےحقائق اورحقیقی تصویرکوچھپانا ہے۔
ماہرین کےمطابق افغانستان میں انٹرنیٹ کی بندش اورڈیجیٹل بلیک آؤٹ طالبان رجیم کے خوف، کمزوری اوربوکھلاہٹ کاواضح ثبوت ہے ،طالبان رجیم کا ڈیجیٹل سنسرشپ اوربلیک آؤٹ منصوبہ عارضی نہیں، بلکہ مستقل آمریت قائم رکھنےکا طویل مدتی ایجنڈا ہے۔









