اسلام آباد ( ملک نجیب ) اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر اور جسٹس محمد آصف پر مشتمل ڈویژن بینچ نے 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پی ٹی آئی(Imran khan) اور بشریٰ بی بی کی سزا کے خلاف دائر اپیلوں پر دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی(Bushra Bibi) کے وکالت ناموں پر دستخط کرانے کا حکم دے دیا ۔
سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کرتے ہوئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ بانی اور بشریٰ بی بی کے وکیل آئندہ سماعت پر دلائل کا آغاز کریں۔ اگر سلمان صفدر دستیاب نہیں تو نیا وکیل دلائل شروع کرے ۔ آئندہ سماعت پر دلائل کا آغاز نہ کیا گیا تو قانون اپنا راستہ لے گا ۔ گزشتہ روز سماعت کے موقع پر بیرسٹر اعتزاز احسن، بیرسٹر سلمان اکرم راجہ اور دیگر وکلا عدالت میں موجود تھے۔
سماعت کے آغاز پر بیرسٹر سلمان اکرم راجہ روسٹرم پر آئے اور عدالت کو بتایا کہ وہ وکیل سلمان صفدر کی جانب سے پیش ہو رہے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دیئے کہ عدالت نے گزشتہ سماعت پر اپیلوں پر دلائل شروع کرنے کی ہدایت کی تھی۔
مزیدپڑھیں:فخر زمان اور صائم ایوب آسٹریلیا سیریز سے باہر،پی سی بی نے تصدیق کردی
چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ نے گزشتہ سماعت کا آرڈر پڑھا ؟ اس پر سلمان اکرم راجہ نے عدالت کو بتایا کہ سلمان صفدر صحت کے مسائل کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ سلمان صفدر کی صحت سے متعلق تمام تفصیلات درخواست میں درج ہیں۔ سلمان اکرم راجہ نے مزید بتایا کہ سلمان صفدر کو بیرون ملک ٹوکیو میں طبی معائنے کے لیے جانا ہے اور وہ چند ہفتوں تک دستیاب نہیں ہوں گے ۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ اگر سلمان صفدر موجود نہیں ہیں تو کیا کوئی اور بھی اپیلوں پر دلائل نہیں دے گا؟ اگر سلمان صفدر نہیں ہیں تو کوئی اور وکیل دلائل دے سکتا ہے ۔ عدالت نے یاد دلایا کہ گزشتہ سماعت پر بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی سے ملاقات کرانے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس پر سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ابھی تک وکالت نامے موصول نہیں ہوئے ۔
چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ آپ نے ملاقات کر لی، وکالت نامہ بھی دستخط کروا لیتے۔ اس موقع پر نیب پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ اپیلیں دائر کرتے وقت انگوٹھوں کے نشانات اور وکالت نامے پہلے ہی موجود تھے۔ سلمان اکرم راجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ اس عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کی تھیں اور دونوں متاثرہ فریق اس فیصلے کو چیلنج کرنا چاہتے ہیں مگر انہیں وکالت نامے نہیں مل رہے ۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ وہ علیحدہ معاملہ ہے ، آپ اسے چیلنج کر سکتے ہیں، ہمیں کوئی اعتراض نہیں مگر ہم آج اپیلیں سننے کے لئے بیٹھے ہیں اور آپ اپیلوں پر دلائل نہیں دے رہے۔ سلمان اکرم راجہ نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی عدالت کی تحویل میں ہیں اور اگر انہیں وکالت نامے پر دستخط کی اجازت نہیں دی جاتی تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہو گی ۔
انہوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اڈیالہ جیل کے سپرنٹنڈنٹ کو ہدایات جاری کی جائیں۔ اس پر نیب پراسیکیوٹر نے مؤقف اختیار کیا کہ اگر وکالت نامہ سپریم کورٹ یا وفاقی آئینی عدالت میں اپیل دائر کرنے کے لیے درکار ہے تو یہ اعتراض متعلقہ فورم پر اٹھایا جا سکتا ہے۔
چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ آپ وفاقی آئینی عدالت میں اپیل کے لیے جا سکتے ہیں، ہمارے سامنے آپ کی اپیلیں ہیں۔ دوران سماعت چیف جسٹس نے سلمان اکرم راجہ سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ سن لیا راجہ صاحب، کتنی دفعہ کہیں گے بعد ازاں عدالت نے بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کے وکالت ناموں پر دستخط کرانے کی ہدایت جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت تک ملتوی کر دی ۔
سماعت ملتوی کرتے ہوئے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے ریمارکس دئیے کہ بانی اور بشریٰ بی بی کے وکیل آئندہ سماعت پر دلائل کا آغاز کریں۔ اگر سلمان صفدر دستیاب نہیں تو نیا وکیل دلائل شروع کرے۔ آئندہ سماعت پر دلائل کا آغاز نہ کیا گیا تو قانون اپنا راستہ لے گا۔









