Oil and Gas Regulatory Authority میں مبینہ کرپشن اور بے ضابطگیوں سے متعلق تحقیقات کا دائرہ وسیع ہوگیا ہے، جبکہ Federal Investigation Agency نے اوگرا کے ممبر آئل زین العابدین قریشی کو کال اپ نوٹس جاری کردیا ہے۔
ذرائع کے مطابق ایف آئی اے پیٹرولیم اسٹاک میں مبینہ ہیرا پھیری، قومی خزانے کو نقصان پہنچانے اور ریگولیٹری اختیارات کے ممکنہ غلط استعمال کے معاملات کی تحقیقات کر رہی ہے۔
مزید پڑھیں؛امریکا ایران ثالثی مثبت نتیجے کی جانب بڑھ رہی ہے، خواجہ آصف
اس سلسلے میں ممبر آئل زین العابدین قریشی کو 25 مئی کو صبح 9 بجے طلب کیا گیا ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر چھپانے، غلط رپورٹس جمع کرانے اور کلیمز میں مبینہ فراڈ کے حوالے سے پوچھ گچھ کی جائے گی۔
کال اپ نوٹس کے مطابق ٹرمینل آپریٹرز کے ساتھ ممکنہ ملی بھگت کے پہلوؤں کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ ایف آئی اے کا مؤقف ہے کہ آئل سپلائی چین، اسٹاک مانیٹرنگ اور قیمتوں کے نظام کی نگرانی ممبر آئل کے دائرۂ اختیار میں آتی ہے۔
تحقیقات کے سلسلے میں ایف آئی اے نے اوگرا حکام سے تمام متعلقہ ریکارڈ بھی طلب کرلیا ہے تاکہ معاملے کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیا جا سکے۔









