امریکی نیوز ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا ایران میں جنگ بندی میں توسیع(seaze fire extention) کا معاہدہ ہوگی۔
امریکی نیوز ویب سائٹ ایگزیوز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایران نے امریکا سے ایٹمی پروگرام پر مذاکرات کی حامی بھرلی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا ایران مفاہمت پر صدر ٹرمپ کی حتمی منظوری ابھی باقی ہے۔ مفاہمتی یادداشت پر دستخط جنگ کے آغاز کے بعد سب سے بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔
رپورٹ کے مطابق ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ یہ ایسا معاہدہ ہے جس کا مقصد فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانا ہے، تفصیلات بات چیت کے دوران طے کی جائیں گی۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ ایران نے اب تک سرکاری طور پر جنگ بندی میں توسیع کی تصدیق نہیں کی۔
امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ایرانی حکام نے کہا ہے ضروری منظوری حاصل کرلی گئی ہے اور وہ معاہدے پر دستخط کیلئے تیار ہیں۔مذاکرات کاروں نے صدر ٹرمپ کو تفصیلات سے آگاہ کیا، ٹرمپ نے فوری منظوری نہیں دی۔
عہدیدار کا مزید کہنا ہے کہ 60 روزہ مفاہمتی معاہدے میں آبنائے ہرمز سے جہاز رانی کو بلا رکاوٹ جاری رکھنے کی شق شامل ہوگی،
جس کے تحت آبنائے ہرمز میں نہ ٹول ٹیکس ہوگا اور نہ ہی جہازوں کو ہراساں کیا جائے گا، ایران کو 30 روز کے اندر آبنائے ہرمز سے تمام بارودی سرنگیں ہٹانا ہوں گی، امریکی بحری ناکہ بندی بھی ختم کردی جائے گی۔
امریکی عہدیدار کے مطابق ایم او یو میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار حاصل نہ کرنے کا عہد بھی شامل ہوگا، ابتدائی مرحلے میں ایران کے انتہائی افزودہ یورینیم کو ٹھکانے لگانے اور یورینیم افزودگی کے معاملے پر بات چیت ہوگی۔
امریکی ویب سائٹ کے مطابق مذاکرات کے دوران ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں کی بحالی پر بھی گفتگو ہوگی۔
امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ ایران کو اپنی معیشت کو پابندیوں سے آزاد کرنے کا ایک موقع مل رہا ہے، ایرانی نظام میں کچھ عناصر یہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک مختلف سمت میں جانے کا موقع ہو سکتا ہے۔
مزید پڑھیں:سینٹکام کا ایرانی مینوفیکچرنگ تنصیبات پر حملے اور 4 ڈورن گرانے کا دعویٰ
عہدیدار کے مطابق ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی سائیڈ ڈیلز یا خفیہ شقیں شامل نہیں ہوں گی، ایران پر پابندیوں میں نرمی اور منجمد اثاثوں سے متعلق کوئی بھی سائیڈ ڈیل یا خفیہ شقیں نہیں ہوں گی۔









