بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

آئی سی سی، پاکستان کو ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2028 کی میزبانی مل گئی

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے خواتین کرکٹ کے مستقبل سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری دیتے ہوئے ویمنز چیمپئنز ٹرافی 2027 کے شیڈول میں تبدیلی، ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2028 کے کوالیفکیشن نظام کی توثیق اور کرکٹ کینیڈا کی رکنیت معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

آئی سی سی بورڈ کے احمد آباد میں ہونے والے سہ ماہی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سری لنکا میں منعقد ہونے والی پہلی ویمنز چیمپئنز ٹرافی اب جون اور جولائی کے بجائے 14 سے 28 فروری 2027 کے درمیان کھیلی جائے گی۔ آٹھ ٹیموں پر مشتمل یہ ٹورنامنٹ ٹی20 فارمیٹ میں منعقد ہوگا۔ آئی سی سی نے شیڈول میں تبدیلی کی کوئی باضابطہ وجہ بیان نہیں کی۔

نئے شیڈول کے باعث ٹورنامنٹ کے اختتامی مراحل نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کے درمیان شیڈول وائٹ بال سیریز سے جزوی طور پر متصادم ہوسکتے ہیں، جس پر کرکٹ آسٹریلیا مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے۔

آئی سی سی نے اس سال ویمنز ایمرجنگ نیشنز ٹرافی کے نئے فارمیٹ کی بھی منظوری دی ہے۔ ٹورنامنٹ میں پہلی مرتبہ 10 ٹیمیں حصہ لیں گی جن میں پانچ فل ممبر اور پانچ ایسوسی ایٹ ممبر ممالک شامل ہوں گے۔ گزشتہ برس منعقد ہونے والے پہلے ایڈیشن میں تھائی لینڈ نے ٹائٹل اپنے نام کیا تھا۔

دوسری جانب آئی سی سی بورڈ نے پاکستان میں ہونے والے ویمنز ٹی20 ورلڈ کپ 2028 کے کوالیفکیشن نظام کی بھی توثیق کردی۔ 12 ٹیموں کے ایونٹ میں 10 ٹیمیں براہ راست کوالیفائی کریں گی، جن میں میزبان پاکستان، انگلینڈ میں جاری رواں عالمی کپ کی ٹاپ آٹھ ٹیمیں اور آئی سی سی ویمنز ٹی20 رینکنگ کی بنیاد پر ایک مزید ٹیم شامل ہوگی۔

آئی سی سی کے ہائبرڈ ماڈل معاہدے کے تحت بھارت کے تمام میچز غیر جانبدار مقام پر کھیلے جائیں گے، جبکہ باقی دو ٹیمیں علاقائی اور عالمی کوالیفائنگ مقابلوں کے ذریعے ایونٹ میں جگہ بنائیں گی۔

ادھر آئی سی سی نے گورننس اور انتظامی امور میں سنگین خلاف ورزیوں کے باعث کرکٹ کینیڈا کی رکنیت معطل کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ تاہم عالمی ادارے نے واضح کیا ہے کہ اس فیصلے سے کینیڈین کھلاڑیوں اور قومی ٹیموں کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہوں گی۔

آئی سی سی کے مطابق کینیڈا کی قومی ٹیمیں معطلی کے دوران بھی آئی سی سی ایونٹس میں شرکت کی اہل رہیں گی، جبکہ قومی پروگرامز کے لیے مالی معاونت ایک خصوصی نگرانی کے نظام کے تحت جاری رکھی جائے گی۔

بورڈ اجلاس میں بنگلا دیش اور سری لنکا کی کرکٹ انتظامیہ سے متعلق معاملات کا بھی جائزہ لیا گیا۔ آئی سی سی حکام دونوں ممالک میں ممکنہ حکومتی مداخلت اور انتظامی تبدیلیوں کے اثرات کا جائزہ لینے کے لیے متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے رابطے میں ہیں۔