بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر ٹرمپ نیتن یاہوپر شدید برہم، جنگ بندی کا دباؤ

امریکی صدر Donald Trump اور اسرائیلی وزیراعظم Benjamin Netanyahu کے درمیان لبنان کی صورتحال پر ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو کے حوالے سے بین الاقوامی میڈیا میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے، جس میں دونوں رہنماؤں کے درمیان تلخ جملوں کے تبادلے کی اطلاعات دی گئی ہیں۔

امریکی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق صدر ٹرمپ نے گفتگو کے دوران اسرائیلی وزیراعظم پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے انہیں “پاگل” اور “ناشکرا” جیسے الفاظ سے مخاطب کیا۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ سخت گفتگو لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں کے تسلسل اور خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں ہوئی۔

رپورٹ کے مطابق اس گفتگو کا پس منظر ایران کی جانب سے امریکا کو دی گئی اس دھمکی سے جڑا ہوا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ اگر لبنان میں اسرائیلی حملے جاری رہے تو امریکا کے ساتھ سفارتی رابطے محدود کیے جا سکتے ہیں۔ اسی صورتحال کے بعد واشنگٹن اور تل ابیب کے درمیان رابطہ مزید حساس ہو گیا۔

ذرائع کے مطابق گفتگو کے دوران امریکی صدر نے واضح مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ لبنان میں شہری آبادی کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات پر انہیں شدید تشویش ہے اور اسرائیل کی کارروائیوں کے باعث خطے میں کشیدگی مزید بڑھ رہی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیل کو متنبہ کیا کہ اگر یہی طرز عمل جاری رہا تو اسے بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزیدپڑھیں:غیر ملکی شہریت چھپانا اب ’’مس کنڈکٹ‘‘ قرار

امریکی اہلکاروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے درمیان اس سے قبل بھی متعدد بار اختلافات سامنے آتے رہے ہیں، تاہم حالیہ گفتگو کو دوسری صدارتی مدت کے دوران سب سے زیادہ سخت اور غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ گفتگو کے دوران صدر ٹرمپ نے سابق قانونی معاملات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں انہوں نے نیتن یاہو کی سیاسی مشکلات میں معاونت کی تھی، تاہم موجودہ صورتحال ان کے مطابق غیر اطمینان بخش ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی وزیراعظم کی جانب سے مبینہ گفتگو پر براہ راست کوئی تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا، تاہم رپورٹ کے مطابق انہوں نے مختصر جواب دیتے ہوئے سفارتی انداز میں بات جاری رکھنے پر زور دیا۔

بعد ازاں امریکی صدر کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری بیان میں کہا گیا کہ لبنان میں فوجی کارروائیوں سے متعلق کشیدگی کم کی جا رہی ہے اور جنگ بندی کے لیے مختلف فریقین کے ساتھ رابطے ہوئے ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ابھی تک نہیں ہو سکی۔

 اگر امریکا اور اسرائیل کے درمیان اس نوعیت کے اختلافات واقعی شدت اختیار کرتے ہیں تو اس کے مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، جنگ بندی کی کوششوں اور علاقائی سفارت کاری پر نمایاں اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔