بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ایران جنگ میں امریکہ اسرائیل کی ناکامی نئے ابھرتے ہوئے عالمی نظام کی جانب مثبت اشارہ ہے، مشاہد حسین سید

سینیٹر مشاہد حسین سید نے گلوبل کونسل فار ٹالرنس اینڈ پیس (GCTP) کی جانب سے منعقدہ بین الاقوامی کانفرنس کے انعقاد پر تشکر کا اظہار کیاجہاں میزبان ملک شمالی مقدونیہ کی صدر اور GCTP کے اماراتی صدر نے ایران اور امریکہ کے درمیان امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

اس کانفرنس میں تنزانیہ اور مالٹا کے اسپیکرز کے علاوہ یورپ، ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ کے 22 ممالک کے پارلیمانی، سیاسی، تھنک ٹینک اور رائے عامہ کے رہنماؤں نے شرکت کی۔

سینیٹر مشاہد حسین سید نے شمالی مقدونیہ کی صدر محترمہ گورڈانا داوکووا سے ملاقات کی جس میں ایران اور امریکہ کے درمیان امن مذاکرات کی میزبانی میں پاکستان کے کلیدی کردار کو سراہا گیااور ان مذاکرات کی کامیابی کے لیے نیک تمناؤں

کا اظہار کیا گیا۔

اس کانفرنس سے اپنے خطاب میں متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے ایمبیسڈر احمد بن محمد الجروان جو ماضی میں عرب پارلیمنٹ کے اسپیکر بھی رہ چکے ہیں نے خلیج میں تنازع کے خاتمے اور ایران-امریکہ امن مذاکرات کی میزبانی کے لیے پاکستان کی امن کوششوں اور اقدامات کی بھرپور تعریف کی۔

سینیٹر مشاہد حسین نے کہا کہ دنیا اس وقت ایک تاریخی تبدیلی کے دور سے گزر رہی ہے جس کی نمایاں خصوصیات بے یقینی اور تبدیلی ہیں جبکہ ایران جنگ نے مغرب کی قیادت میں قائم بین الاقوامی نظام کے بکھرنے کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مغرب کے زوال اور اندرونی تقسیم کا عمل ناقابلِ واپسی ہے کیونکہ مغرب کی قیادت میں قائم عالمی نظام گلوبل ساؤتھ کو درپیش مسائل پر دوہرے معیار اور منافقت پر مبنی رہا ہے۔انہوں نے ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اس کی ناکامی کو ابھرتے ہوئے عالمی نظام کے لیے ’’نیک شگون‘‘ قرار دیا اور کہا کہ اس سے ثابت ہوا ہے کہ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کی پالیسی ناکام ہو چکی ہے۔

مزیدپڑھیں:اسپیکر قومی اسمبلی کا سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی خوش دامن کے انتقال پر اظہارِ تعزیت

انہوں نے کانفرنس کو ایران اور امریکہ کے درمیان ایک ’’غیر جانبدار ثالث‘‘ کے طور پر پاکستان کے کردار سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ امن ’’چند ہفتوں میں ممکن نظر آ رہا ہے‘‘۔چین کے عروج کو ’’ناقابلِ تسخیر‘‘ قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کا حالیہ دورۂ چین، چین کے خلاف امریکی ٹیرف اور تجارتی جنگ کی ناکامی کے بعد ہوا اور اب اس دورے کے بعد امریکہ نے چین کو ایک مساوی شراکت دار کے طور پر تسلیم کر لیا ہے جو سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں امریکہ سے آگے نکلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سینیٹر مشاہد حسین نے شمالی مقدونیہ کی دو عظیم شخصیات سکندرِ اعظم اور مدر ٹریساکا بھی ذکر کیا جن کے جنوبی ایشیا کے ساتھ گہرے تعلقات رہے ہیں۔انہوں نے ستمبر 1997 میں کلکتہ میں مدر ٹریسا کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے پاکستانی وفد کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی پر پختہ یقین رکھتا ہے اور مسیحی اور دیگر غیر مسلم برادریوں کی پاکستان کی ترقی میں خدمات کا احترام کرتا ہے۔

Senator Mushahid Hussain with President of North Macedonia, Gordana Davkova