نیوزی لینڈ کے آل راؤنڈر مچل سینٹنر (mitchel santner)نے انکشاف کیا ہے کہ انڈین پریمیئر لیگ میں شرکت کے دوران انہیں مکمل معاوضے کے بجائے آدھی رقم ادا کی گئی، جس پر انہیں شدید مایوسی ہوئی۔
ایک انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے مچل سینٹنر نے بتایا کہ وہ کندھے کی انجری کے باعث آئی پی ایل سے باہر ہوگئے تھے۔ ان کے مطابق ممبئی انڈینز نے انہیں 2 کروڑ بھارتی روپے کی مکمل رقم ادا نہیں کی بلکہ صرف آدھا معاوضہ دیا۔
سینٹنر نے کہا کہ آدھی رقم کی ادائیگی پر انہیں بہت دکھ ہوا، خاص طور پر اس لیے کہ وہ انجری کے باعث ٹورنامنٹ سے باہر ہوئے تھے۔
انہوں نے بتایا کہ آئی پی ایل میں اپنا پہلا میچ انہوں نے دوسرے بچے کی پیدائش کے باعث مس کیا۔ بعد ازاں وہ واپس آئے، دہلی کے خلاف میچ کھیلا اور کندھے کی انجری کا شکار ہوگئے۔ ایک ہفتے بعد دوبارہ میدان میں اترے لیکن پھر انجری نے آ لیا، جس کے بعد انہیں گھر واپس جانا پڑا۔
مچل سینٹنر کے مطابق دو ہفتوں کے دوران ان کا کندھا دو مرتبہ زخمی ہوا اور انہیں محسوس ہوا کہ وہ اپنے جسم پر حد سے زیادہ بوجھ ڈال رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انہیں توقع تھی کہ مکمل فٹ ہونے میں تقریباً آٹھ ہفتے لگیں گے، تاہم وہ چار ہفتوں میں صحت یاب ہو کر قومی ٹیم میں واپس آ گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ جلد فٹ ہونے کے بعد میڈیا میں ان کے بارے میں مختلف باتیں کی جا رہی ہیں۔
مچل سینٹنر کندھے کی انجری سے صحت یاب ہونے کے بعد انگلینڈ کے خلاف پہلے ٹیسٹ سے ایک ہفتہ قبل نیوزی لینڈ کی ٹیم میں شامل ہو گئے تھے۔
سینٹنر نے آئی پی ایل میں ممبئی انڈینز کی نمائندگی کرتے ہوئے 5 میچز کھیلے، جبکہ 27 اپریل کو انہیں باضابطہ طور پر ٹورنامنٹ سے باہر قرار دیا گیا تھا۔
آئی پی ایل قوانین کے مطابق اگر کوئی کھلاڑی لیگ کے دوران زخمی ہو جائے تو اسے عام طور پر نیلامی کے وقت طے شدہ معاہدے کے مطابق معاوضہ ملتا ہے۔
مزید پڑھیں:صوبہ پوٹھوہار تحریک کا اجلاس، پیر آغا جی سرکار، کنوینر زاہد ملک و دیگر شریک
بھارتی میڈیا کے مطابق آدھی رقم کی ادائیگی سے متعلق مچل سینٹنر کے بیان پر ممبئی انڈینز کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔









