پشاور ہائی کورٹ(Peshawar High Court) نے گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے ملازمین کو دی جانے والی مفت بجلی کی سہولت ختم کرنے سے متعلق حکومتی نوٹیفکیشن پر عمل درآمد روک دیا ہے اور اسے معطل کر دیا ہے۔
عدالتِ عالیہ نے ٹرائبل ایریا الیکٹرک سپلائی کمپنی (ٹیسکو) کے ملازمین کی جانب سے دائر درخواست پر گزشتہ سماعت کا تفصیلی تحریری حکم نامہ جاری کیا۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے جاری کیے گئے 5 دسمبر 2023 اور 6 مئی 2026 کے نوٹیفکیشنز فی الحال معطل رہیں گے اور ان پر کسی قسم کا مزید عمل نہیں کیا جا سکتا۔
عدالتی کارروائی کے دوران عدالت نے تمام متعلقہ فریقین کو باقاعدہ نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 18 جون تک ملتوی کر دی۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ مفت بجلی کی سہولت ملازمین کے ابتدائی سروس کنٹریکٹ کا حصہ ہے، جسے کسی بھی صورت میں یکطرفہ طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے مطابق حکومت کا یہ اقدام نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ آئین پاکستان کے مختلف آرٹیکلز 4، 18، 24 اور 25 کے بھی منافی ہے، جو شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرتے ہیں۔
مزیدپڑھیں:چاچا کرکٹ کی پاکستانی کھلاڑیوں کو لسی پلانے والی یادگار ویڈیو وائرل
عدالت کو یہ بھی بتایا گیا کہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے ملازمین کے لیے یہ سہولت پہلے سے موجود تھی، تاہم اسے سابق نگران حکومت نے ختم کیا تھا۔ وکیل نے مؤقف اپنایا کہ نگران حکومت کو ایسے بڑے پالیسی فیصلے کرنے کا قانونی اختیار حاصل نہیں تھا، خاص طور پر ایسے فیصلے جو ملازمین کے بنیادی حقوق اور مراعات پر اثر انداز ہوں۔
مزید یہ بھی کہا گیا کہ ٹیسکو ایک خودمختار کارپوریٹ ادارہ ہے، اس لیے اس کے ملازمین کے حوالے سے حکومتی نوٹیفکیشن کمپنی کے اپنے قواعد و ضوابط اور سروس اسٹرکچر سے ہم آہنگ نہیں ہے۔
عدالت نے ابتدائی دلائل سننے کے بعد حکومتی نوٹیفکیشنز پر عبوری حکم امتناع جاری کرتے ہوئے معاملے کی مزید سماعت آئندہ تاریخ تک مؤخر کر دی ہے۔









