نئے مالی سال کے بجٹ سے قبل ہی ملک میں سولر پینلز(Solar Panels) کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد عام صارفین کے لیے سولر سسٹم کی تنصیب مزید مہنگی ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
مارکیٹ ذرائع کے مطابق مختلف واٹج کے سولر پینلز کی قیمتوں میں فی پلیٹ 7 سے 9 ہزار روپے تک اضافہ کیا گیا ہے۔ اس اضافے کے بعد 585 واٹ کا سولر پینل جو پہلے 18 ہزار روپے میں دستیاب تھا، اب بڑھ کر 27 ہزار روپے تک پہنچ گیا ہے۔
اسی طرح 645 واٹ کے سولر پینل کی قیمت 22 ہزار روپے سے بڑھ کر 31 ہزار 200 روپے ہو گئی ہے، جبکہ 720 واٹ کا پینل 25 ہزار روپے سے بڑھ کر 33 ہزار 500 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
مارکیٹ میں صرف سولر پینلز ہی نہیں بلکہ انورٹرز کی قیمتوں میں بھی اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جس سے مجموعی طور پر سولر انرجی سسٹم کی لاگت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
مزیدپڑھیں:ملازمین کے لئے مفت بجلی کی سہولت،حکومتی نوٹیفکیشن معطل
دوسری جانب ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سولر پینلز پر جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کی شرح 10 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جس کے باعث مارکیٹ میں پہلے ہی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔
بجٹ سے قبل قیمتوں میں اس اچانک اضافے نے صارفین کو پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، اور اگر ٹیکس میں اضافہ نافذ ہو گیا تو سولر انرجی سسٹم عام شہری کی پہنچ سے مزید دور ہو سکتا ہے۔









