بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

وسطی افریقہ میں ایبولا وبا شدت اختیار کر گئی، ہلاکتیں 84 تک پہنچ گئیں

وسطی افریقہ میں ایبولا وائرس کے پھیلاؤ نے عالمی سطح پر تشویش میں اضافہ کر دیا ہے، جہاں جمہوریہ کانگو اور یوگنڈا میں متاثرہ افراد اور ہلاکتوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) کے مطابق حالیہ وبا میں اب تک مجموعی طور پر 471 تصدیق شدہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعداد 84 تک پہنچ گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق جمہوریہ کانگو اس وبا سے سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، جہاں 452 تصدیق شدہ کیسز اور 82 اموات ریکارڈ کی گئی ہیں۔ دوسری جانب ہمسایہ ملک یوگنڈا میں 19 کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ دو افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ماہرین صحت کے مطابق صرف ایک دن کے دوران درجنوں نئے کیسز سامنے آنے اور ہلاکتوں میں اضافے نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ کانگو کے شمال مشرقی صوبے ایتوری میں وائرس تیزی سے کمیونٹی سطح پر پھیل رہا ہے، جبکہ شمالی اور جنوبی کیوو کے علاقوں میں بھی کیسز رپورٹ ہو رہے ہیں۔

مزیدپڑھیں:چینی اداکار جِن زے 33 برس کی عمر میں اچانک انتقال کر گئے

عالمی ادارۂ صحت نے اس وبا کو بین الاقوامی سطح پر صحت عامہ کی ہنگامی صورتحال (Public Health Emergency of International Concern) قرار دے رکھا ہے۔ ادارے کے مطابق اس وبا کا سبب بننے والا بنڈیبوجیو (Bundibugyo) ایبولا وائرس ہے، جس کے لیے فی الحال کوئی منظور شدہ ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں، تاہم بروقت طبی نگہداشت سے مریضوں کی جان بچانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایبولا وائرس متاثرہ شخص کے خون، جسمانی رطوبتوں یا قریبی جسمانی رابطے کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اسی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں نگرانی، قرنطینہ، کانٹیکٹ ٹریسنگ اور محفوظ تدفین کے اقدامات انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق یہ وبا 15 مئی 2026 کو باضابطہ طور پر سامنے آئی، تاہم ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وائرس ممکنہ طور پر کئی ماہ قبل خاموشی سے پھیلنا شروع ہو چکا تھا، جس کے باعث کیسز کی اصل تعداد رپورٹ شدہ اعداد و شمار سے زیادہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

ادھر عالمی ادارۂ صحت اور افریقن سی ڈی سی نے وبا پر قابو پانے کے لیے آئندہ چھ ماہ کے دوران 518 ملین ڈالر کے ہنگامی منصوبے کا آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت نگرانی کے نظام کو مضبوط بنانے، لیبارٹری ٹیسٹنگ میں اضافہ کرنے، طبی مراکز کو وسائل فراہم کرنے اور سرحدی علاقوں میں حفاظتی اقدامات کو بہتر بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

صحت کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ وبا مزید ممالک تک پھیل سکتی ہے، جس سے افریقہ کے علاوہ دیگر خطوں میں بھی صحت عامہ کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔