ملک میں رئیل اسٹیٹ(Real estate) کے شعبے میں بڑے پیمانے پر اصلاحات لانے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین نیب نذیر احمد نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ملک میں رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں وسیع اصلاحات متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ مجوزہ اقدامات کا مقصد شعبے میں شفافیت کو فروغ دینا، سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ یقینی بنانا اور کاروباری سرگرمیوں کو زیادہ منظم اور قابل اعتماد بنانا ہے۔
لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جائیداد کے شعبے میں فراڈ، فائل کلچر اور غیر شفاف لین دین جیسے مسائل کے خاتمے کے لیے مؤثر حکمت عملی پر کام کیا جا رہا ہے۔ مستقبل میں ہاؤسنگ منصوبوں میں پلاٹوں کی فروخت اور ملکیت کی منتقلی کا عمل ایک ریگولیٹری نظام کے تحت انجام دیا جائے گا تاکہ بے ضابطگیوں اور تنازعات کی گنجائش کم سے کم ہو۔
مزیدپڑھیں:شہری کے نام پر 421 گاڑیاں، لاکھوں کے چالان دیکھ کر پولیس حیران
انہوں نے مزید بتایا کہ نقد ادائیگیوں کی حوصلہ شکنی کی جائے گی اور تمام مالی لین دین کو بینکاری نظام کے ذریعے انجام دینے کی طرف منتقل کیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد مالی شفافیت میں اضافہ اور ریکارڈ کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔
چیئرمین نیب کا کہنا تھا کہ کسی بھی رہائشی منصوبے میں فروخت کیے جانے والے پلاٹوں کی تعداد دستیاب اصل پلاٹوں سے زیادہ نہیں ہو سکے گی۔ اس کے علاوہ ہر پلاٹ کی مکمل اور منفرد شناخت کو یقینی بنایا جائے گا تاکہ خریداروں کو درپیش مشکلات اور جعل سازی کے امکانات کم کیے جا سکیں۔
اجلاس سے خطاب کرتے صدر لاہور چیمبر فہیم الرحمان سہگل نے کہا کہ مضبوط معیشت کے لیے شفافیت، انصاف اور قانون کی حکمرانی بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ سرکاری اداروں میں گورننس کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت ہے تاکہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھایا جا سکے اور کاروباری ماحول مزید بہتر ہو۔
تقریب میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مجوزہ اصلاحات سے نہ صرف رئیل اسٹیٹ سیکٹر میں اعتماد بحال ہوگا بلکہ سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی سرگرمیوں میں اضافے کی راہ بھی ہموار ہو سکے گی۔









