قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر سردار ایاز صادق(Ayaz Sadiq) کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں وفاقی بجٹ 2026-27 کے تحت مختلف وزارتوں اور ڈویژنوں کے مطالباتِ زر کی منظوری کا عمل جاری رہا۔
ایوان نے ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن، کامرس ڈویژن، مواصلات ڈویژن، دفاع اور دفاعی پیداوار، اکنامک افیئرز، وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت، خارجہ امور، ہاؤسنگ و تعمیرات، انسانی حقوق، داخلہ، صنعت و پیداوار، اطلاعات و نشریات، انفارمیشن ٹیکنالوجی، بین الصوبائی رابطہ، امور کشمیر و گلگت بلتستان، قانون و انصاف، میری ٹائم افیئرز، قومی اسمبلی، سینیٹ، قومی صحت، پارلیمانی امور، منصوبہ بندی، نجکاری، ریلوے، مذہبی امور، سائنس و ٹیکنالوجی، آبی وسائل اور کابینہ ڈویژن سمیت متعدد وزارتوں اور ذیلی اداروں کے اربوں اور کھربوں روپے مالیت کے مطالباتِ زر منظور کر لیے۔

مزیدپڑھیں:مستقبل میں اگر کوئی صدارتی اعزاز دیا گیا تو قبول نہیں کروں گا: شہزاد نواز
منظور شدہ مطالبات میں دفاعی شعبے کے لیے 30 کھرب 67 ارب 23 کروڑ روپے سے زائد، مواصلات کے لیے ایک کھرب 25 ارب روپے سے زائد، وفاقی تعلیم کے لیے ایک کھرب 21 ارب 26 کروڑ روپے، ریلوے کے لیے ایک کھرب 11 ارب 13 کروڑ روپے اور آبی وسائل کے لیے ایک کھرب 7 ارب روپے سے زائد کے فنڈز شامل ہیں۔ ایوان نے دیگر وزارتوں اور ڈویژنوں کے مالی مطالبات کی بھی منظوری دی جبکہ بجٹ منظوری کی کارروائی مرحلہ وار جاری رہی۔








