بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

ملازمین کیلیے انکم ٹیکس کے نئے سلیبز؛ کتنی تنخواہ ٹیکس سے مستثنیٰ ہوگی؟

اسلام آباد:وفاقی حکومت نے یکم جولائی 2026 سے سرکاری ملازمین اور تنخواہ دار طبقے کے لیے انکم ٹیکس کے نئے سلیب(New Tax Slab) متعارف کرا دیے ہیں۔ فنانس بل 2026 کی منظوری کے بعد مختلف آمدنی رکھنے والے افراد کے لیے نئی ٹیکس شرحیں مقرر کی گئی ہیں۔

فنانس بل کے مطابق سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد انکم ٹیکس سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہوں گے۔ جبکہ سالانہ 6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد پر ایک فیصد انکم ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

نئے ٹیکس نظام کے تحت سالانہ 12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے آمدن رکھنے والوں کو 6 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس کے علاوہ اضافی رقم پر 11 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔ اسی طرح 22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد پر ایک لاکھ 16 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 20 فیصد ٹیکس عائد ہوگا، جبکہ اس سے قبل یہ شرح 23 فیصد تھی۔

پراپرٹی خریدنے اور بیچنے پر عائد ایڈوانس ٹیکس میں کمی کی منظوری

فنانس بل میں مزید کہا گیا ہے کہ 32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد پر 3 لاکھ 46 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 25 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔ اسی طرح 41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن والوں کے لیے 5 لاکھ 41 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی رقم پر 29 فیصد ٹیکس مقرر کیا گیا ہے۔

نئے سلیب کے مطابق 56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کو 9 لاکھ 76 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس کے ساتھ اضافی رقم پر 32 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا جبکہ 70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والے افراد پر 14 لاکھ 24 ہزار روپے فکسڈ ٹیکس اور اضافی آمدن پر 35 فیصد انکم ٹیکس عائد کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں:بھارتی شہری کو ایئرہوسٹس سے چھیڑچھاڑ مہنگی پڑ گئی، جیل منتقل

فنانس بل 2026 کے تحت یہ تمام نئی ٹیکس شرحیں یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوں گی اور ان کا اطلاق تنخواہ دار طبقے اور سرکاری ملازمین پر کیا جائے گا۔