بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

طیب اردوان کی حمایت سے ثالثی کا کردار ملا، ترک سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرینگے،وزیراعظم

وزیراعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان-ترکیہ بزنس ٹو بزنس (Business to Business) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ اور تاریخی تعلقات قائم ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ پاکستان کا مخلص اور قابلِ اعتماد اتحادی ہے، جس نے ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔

وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے لازوال تعلقات کی بنیاد ترکیہ کی جنگِ آزادی کے دوران رکھی گئی، جب علی برادران کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے ترک عوام کی جدوجہد کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے استنبول کو ایشیا اور یورپ کو ملانے والا خوبصورت شہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی یہ تاریخ آج بھی نئی جہتیں اختیار کر رہی ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان کی مخلصانہ حمایت سے پاکستان کو امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ ان کے بقول پاکستان نے اس سفارتی عمل میں خلوصِ نیت سے کردار ادا کیا۔

جو ایک مشکل مشن تھا، تاہم اللہ کے فضل سے جنگ بندی ممکن ہوئی اور امریکا اور ایران کے صدور نے پاکستان کی ثالثی میں مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے۔ انہوں نے کہا کہ اب امن کے اس موقع کو دوطرفہ تعاون اور علاقائی خوشحالی کے فروغ کے لیے استعمال کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا کہ صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ نے صنعت، معیشت اور ترقی کے میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اور پاکستان ترکیہ کے تجربات سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈسکوز کی نجکاری، ٹرانسمیشن سسٹم کی بہتری، توانائی اور متبادل توانائی کے شعبوں میں ترک سرمایہ کاری کا خیرمقدم کیا جائے گا، جبکہ بزنس ٹو بزنس تعاون وقت کے ساتھ مزید مؤثر اور مضبوط ہوگا۔

مزید پڑھیں:طیب اردوان کی حمایت سے ثالثی کا کردار ملا، ترک سرمایہ کاری کا خیر مقدم کرینگے،وزیراعظم

اپنے خطاب میں وزیراعظم نے کہا کہ جب پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو ملک نے اپنی خودمختاری اور وقار کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے دشمن کو منہ توڑ جواب دیا، جو تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ وزیراعظم نے اس موقع پر ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے مشکل وقت میں پاکستان کے مؤقف کی حمایت پر بھی اظہارِ تشکر کیا۔