لندن، برطانیہ نے ایران کی پاسدارانِ انقلاب کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔رائٹرز کے مطابق برطانوی حکومت اس حوالے سے جلد باضابطہ اعلان کر سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس اقدام کے بعد پاسدارانِ انقلاب ( I R G C )کی رکنیت، حمایت یا اس سے وابستہ سرگرمیوں میں ملوث افراد کے خلاف برطانوی انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت کارروائی کی جا سکے گی، یہ فیصلہ برطانیہ کی ایران کے حوالے سے سخت ہوتی پالیسی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس فیصلے کا باضابطہ اعلان کر دیا جاتا ہے تو اس سے ایران اور برطانیہ کے درمیان پہلے سے کشیدہ تعلقات مزید متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ خطے کی سفارتی صورتحال پر بھی اس کے اثرات مرتب ہونے کا امکان ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم ماضی میں تہران مغربی ممالک کی جانب سے ایسے اقدامات کو مسترد کرتا رہا ہے۔
رائٹرز کے مطابق برطانوی حکومت کی جانب سے اس معاملے پر مزید تفصیلات آئندہ سامنے آنے کا امکان ہے۔
خیال رہے کہ 25 اپریل 2026 کو برطانوی وزیراعظم کیئراسٹارمر نے کہا تھا کہ وہ ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کیلئے چند ہفتوں میں قانون سازی کریں گے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق کیئراسٹارمر ایران کی پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیم قرار دینے کیلئے چند ہفتوں میں قانون سازی کریں گے، اس اقدام سے یہودی گروہوں اور ایران میں مذہبی حکومت کے مخالفین کا مطالبہ پورا ہو جائے گا۔
اس سے پہلے برطانیہ میں صرف غیر ریاستی عناصر تنظیموں کو ہی دہشتگردی ایکٹ کے تحت دہشت گرد قرار دیا جاتا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:15 جولائی کو ماہ صفر کا چاند نظر آنے کا امکان ہے، محکمہ موسمیات
فنانشل ٹائمزکے مطابق یہ پہلا موقع ہوگا کہ کسی ملک کی مسلح فوج کو برطانیہ دہشتگرد قراردے گا جب کہ یورپی یونین فروری ہی میں فیصلہ کرچکی ہے کہ پاسداران انقلاب کودہشتگرد قراردیا جائےگا۔









