برطانوی ماہر امراض قلب نے خبردار کیا ہے کہ بعض اوقات دبلے پتلے اور بظاہر صحت مند نظر آنیوالے افراد میں بھی کولیسٹرول (Cholesterol)بڑھا ہو سکتا ہے۔
انکا کہنا ہے کہ اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ زیادہ کولیسٹرول صرف ان لوگوں کا مسئلہ ہے جو موٹاپے کا شکار ہوں، عمر رسیدہ ہوں یا غیر صحت بخش غذا کھاتے ہوں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔
چونکہ زیادہ کولیسٹرول عموما کوئی واضح علامات ظاہر نہیں کرتا، اس لیے یہ برسوں تک بغیر تشخیص کے موجود رہ سکتا ہے اور خاموشی سے دل کے دورے، فالج اور دیگر امراض قلب اور شریانوں کی بیماریوں کے خطرے میں اضافہ کرتا رہتا ہے۔
اور ایسا ان افراد میں بھی ہوتا ہے جو بظاہر دبلے پتلے اور صحت مند نظر آتے ہیں۔امراض اور شریانوں کی بیماریاں اب بھی موت اور معذوری کی سب سے بڑی وجوہات میں شامل ہے اور ہر سال لاکھوں افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ماہرین کے مطابق بظاہر صحت مند نظر آنے والے افراد کو بھی اپنے کولیسٹرول کی سطح کے بارے میں آگاہ رہنا چاہیے۔
مزیدپڑھیں:ٹرمپ نے لنزسے گراہم کی موت کے بعد عبوری مدت کیلئے انکی بہن کو سینیٹر نامزد کر دیا
کولیسٹرول ایک چکنائی جیسا مادہ ہے جو خون کی نالیوں میں جمع ہو سکتا ہے۔لندن کے نیو وکٹوریا اسپتال کی کنسلٹنٹ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر زوئی ایسٹرولاکس کا کہنا ہے کہ کولیسٹرول لیول صرف اس وجہ سے خود بخود ٹھیک نہیں ہو جاتا کہ آپ دبلا پتلا جسم رکھتے ہیں، باقاعدگی سے ورزش کرتے ہیں اور صحت بخش غذا کھاتے ہیں۔
انھوں نے کہا آپ یہ معلوم نہیں کر سکتے کہ آپ کے خون میں کولیسٹرول کی مقدار کتنی ہے جب تک کہ خون کا ٹیسٹ نہ کروایا جائے۔ ممکن ہے کہ آپ کی پوری زندگی کولیسٹرول کی سطح زیادہ رہی ہو، لیکن آپ میں اس کی کوئی واضح علامات ظاہر نہ ہوئی ہوں۔ڈاکٹر ایسٹرولاکس کے مطابق کچھ ایسے عوامل موجود ہیں جو خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتے ہیں اور جن کی موجودگی میں کولیسٹرول کا ٹیسٹ کروانا ضروری ہو سکتا ہے۔









