ایران کے صدر مسعود پزشکیان(Masoud Pezeshkian) کا کہنا ہے کہ امریکا تہران کے ساتھ مذاکرات اور مفاہمت کے لیے مجبور ہوا ہے جو ہماری سفارتکاری کی کامیابی ہے اور یہی وہ وقت ہے جب کسی معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں میڈیا کے نمائندوں کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ امریکا اسلام آباد مفاہمتی یادداشت اور ایران و عمان کی جانب سے مشترکہ تیار کردہ نکات پر عمل کرنے کا پابند تھا مگر واشنگٹن نے ایسا نہیں کیا اسی لیے ہمیں اپنا ردعمل دینا پڑا۔
انہوں نے کہا کہ اس صورتحال سے نبردآزما ہونے کے لیے خصوصی ٹیم کی ضروت ہوتی ہے اور ہماری ٹیم اس بحران پر اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں، اور ہم پُرامید ہیں کہ ایران اپنے وقار، عزم اور فخر کے معیار کے ساتھ آگے قدم بڑھائے گا۔
مزیدپڑھیں:مکہ مکرمہ، شہزادہ بندر بن منصور بن عبداللّٰہ بن جلاوی کی والدہ انتقال کرگئیں
ایرانی صدر نے پریس کانفرنس میں واشگاف الفاظوں میں امریکا کو مجرم اور استعماری حکومت قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا کے خلاف ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔
انہوں نے ایرانی قوم باخبر رکھتے ہوئے کہا امریکا اور اسرائیل کا گٹھ جوڑ جنگ کے ذریعے تہران کو جھکنے پر مجبور نہیں کر سکا ہے اسی لیے اب وہ مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے ایرانی قوم میں تقسیم اور تنازعات کو بھڑکا کر اسے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں جس سے ایرانی قوم کو خبردار رہنا ہو گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے مزید کہا قوم کو اس مرحلے پر اتحاد کی ضرورت ہے ہمیں اپنی سلامتی اور دفاعی صلاحیتوں کے تحفظ کے لیے باہم ایک ہونا ہو گا۔









