بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

کیا ایزی پیسہ نے خاموشی سے سروس چارجز بڑھا دیے ہیں؟

پاکستان کے معروف ڈیجیٹل والٹ اور برانچ لیس بینکنگ پلیٹ فارم ایزی پیسہ(easypaisa) نے صارفین پر نئے یا اضافی سروس چارجز عائد کیے جانے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اطلاعات کی تردید کردی ہے۔

ایزی پیسہ انتظامیہ کے مطابق عام صارفین کی بنیادی سہولیات پر کسی قسم کے خفیہ یا اضافی چارجز نافذ نہیں کیے گئے، جبکہ ایزی پیسہ اکاؤنٹس کے درمیان رقم کی منتقلی اور ’راست‘ کے ذریعے لین دین بدستور مفت ہے۔

کمپنی نے اپنے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ سوشل میڈیا پر عام رقم کی منتقلی پر اضافی ٹیکس یا نئی فیسوں سے متعلق پھیلائی جانے والی اطلاعات بے بنیاد ہیں۔ ایزی پیسہ سے ایزی پیسہ رقم کی منتقلی اور حکومت کے ’راست‘ نیٹ ورک کے استعمال پر پہلے کی طرح کوئی اضافی فیس عائد نہیں کی گئی۔

کن سروسز پر فیس وصول کی جاتی ہے؟
ایزی پیسہ کے موجودہ شیڈول آف چارجز کے مطابق ایپ میں موجود ’ایڈ فنڈز‘ فیچر کے ذریعے لنکڈ بینک اکاؤنٹ سے رقم ایزی پیسہ والٹ میں منتقل کرنے پر 2 فیصد سروس فیس عائد ہوتی ہے، جبکہ ڈیبٹ یا کریڈٹ کارڈ کے ذریعے رقم شامل کرنے پر 3 فیصد سروس فیس وصول کی جاتی ہے۔

تاہم اگر صارف کسی دوسرے بینک کی آفیشل موبائل ایپ کے ذریعے اپنے ایزی پیسہ والٹ میں رقم منتقل کرتا ہے تو یہ سہولت اب بھی مفت ہے۔

دیگر بینک اکاؤنٹس میں رقم منتقل کرنے یعنی آئی بی ایف ٹی کے لیے ماہانہ 25 ہزار روپے تک کی حد مفت رکھی گئی ہے۔ اس حد سے زیادہ رقم کی منتقلی پر 0.1 فیصد فیس یا زیادہ سے زیادہ 200 روپے تک چارج کیا جاتا ہے۔

اسی طرح سادہ موبائل فون سے *786# کے ذریعے لین دین کرنے پر فی ٹرانزیکشن ایک روپے کی پلیٹ فارم فیس مقرر ہے، جبکہ اے ٹی ایم سے رقم نکلوانے کی صورت میں 18.75 روپے سے 23.44 روپے تک چارجز عائد ہوتے ہیں۔

ڈیبٹ اور ورچوئل کارڈز کے چارجز بھی مقرر
کمپنی کی پالیسی کے تحت ویزا یا پے پاک ڈیبٹ کارڈ کے اجرا کی فیس ایک ہزار روپے مقرر ہے، جبکہ یونین پے کارڈ 999 روپے اور ورچوئل کارڈ 500 روپے میں جاری کیا جاتا ہے۔

مزیدپڑھیں:رواں سال کا دوسرا سورج گرہن آج ہوگا

ایزی پیسہ ایپ کے ذریعے بائیومیٹرک تصدیق کے لیے 99 روپے فیس جبکہ اکاؤنٹ کو آسان ڈیجیٹل اکاؤنٹ میں تبدیل کرنے کے لیے 75 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

دوسری جانب ایپ کے ذریعے بلوں کی ادائیگی اور موبائل ریچارج کی سہولت بدستور مفت فراہم کی جا رہی ہے۔

تاہم ’ایزی کیش‘ قرض کی بروقت ادائیگی نہ ہونے کی صورت میں 5 فیصد تاخیر کی فیس عائد ہوتی ہے، جس کی زیادہ سے زیادہ حد 800 روپے مقرر ہے۔

کمپنی نے فیسوں میں اچانک تبدیلی کی تردید کردی
ایزی پیسہ کے مطابق صارفین سے وصول کی جانے والی تمام فیسیں اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی ہدایات اور باضابطہ طور پر منظور شدہ شیڈول آف چارجز کے تحت ہیں اور حالیہ عرصے میں ان میں اچانک کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔

کمپنی نے صارفین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر تصدیق شدہ اطلاعات پر انحصار کرنے کے بجائے ایزی پیسہ کی آفیشل ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کو حتمی سمجھیں۔

ماہرین کی رائے کیا ہے؟
مالیاتی امور کے ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل والٹس کی جانب سے بعض مخصوص سہولیات پر فیس عائد کرنے کا مقصد صارفین کو متبادل ذرائع کے غیر متوازن یا غیر ضروری استعمال سے روکنا بھی ہوسکتا ہے، تاہم سروس چارجز کے معاملے میں شفافیت برقرار رکھنا کمپنیوں کی ذمہ داری ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ چونکہ ایزی پیسہ سے ایزی پیسہ رقم کی منتقلی اور ’راست‘ نیٹ ورک کے ذریعے لین دین جیسی بنیادی سہولیات اب بھی مفت ہیں، اس لیے صارفین کی بڑی تعداد پر ان چارجز کا براہ راست اثر نہیں پڑے گا۔

تاہم مالیاتی ماہرین نے زور دیا کہ ڈیجیٹل مالیاتی پلیٹ فارمز کو فیسوں میں کسی بھی تبدیلی، نئی حد بندی یا اضافی چارجز سے متعلق صارفین کو بروقت اور واضح معلومات فراہم کرنی چاہییں تاکہ افواہوں اور غیر یقینی صورتحال سے بچا جا سکے۔