بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

شادی کا جھانسہ، انڈونیشین خاتون حبسِ بے جا سے بازیاب

حیدرآباد: شادی کا جھانسہ دے کر پاکستان بلانے اور مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھنے کی شکایت پر انڈونیشین خاتون کو پولیس نے عدالت کے حکم پر بازیاب کرا لیا۔

محکمہ ترقی نسواں کے حکام کے مطابق انڈونیشین خاتون اندا مرلین نے پیغام کے ذریعے محکمہ ترقی نسواں کے حکام کو شکایت کی تھی کہ اس کے شوہر نے اسے گھر میں مبینہ طور پر حبسِ بے جا میں رکھا ہوا ہے جبکہ اس کا پاسپورٹ اور دیگر قانونی دستاویزات بھی قبضے میں لے لیے گئے ہیں۔

خاتون کی شکایت موصول ہونے پر محکمہ ترقی نسواں کے شکایتی سیل کی انچارج نسرین پلیجو نے فوری کارروائی کرتے ہوئے پولیس سے رابطہ کیا اور خاتون کی بازیابی کے لیے اقدامات کی درخواست کی۔

نسرین پلیجو کی جانب سے نسیم نگر تھانے کو خاتون کی بازیابی کے لیے درخواست دی گئی، تاہم پولیس نے خاتون کی مبینہ موجودگی سے متعلق درخواست پر کارروائی نہ ہونے کا تحریری جواب دیا۔

محکمہ ترقی نسواں کے مطابق پولیس کی جانب سے کارروائی نہ ہونے پر معاملہ عدالت میں لے جایا گیا۔ عدالت کے حکم پر پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے قاسم آباد کے علاقے گل لطیف سوسائٹی میں ایک مکان پر چھاپا مارا، جہاں سے انڈونیشین خاتون کو بازیاب کرالیا گیا۔

پولیس نے بازیاب خاتون کو مزید قانونی کارروائی کے لیے عدالت میں پیش کردیا، جبکہ تھانہ وومن پولیس کی جانب سے معاملے کی مزید کارروائی جاری ہے۔

محکمہ ترقی نسواں کی شکایتی سیل کی انچارج نسرین پلیجو نے کہا کہ قانون سب کے لیے برابر ہے، خواتین کو ہراساں کرنا یا انہیں حبسِ بے جا میں رکھنا سنگین جرم ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے محکمہ ترقی نسواں ہر وقت اقدامات کے لیے موجود ہے۔ ایسے معاملات میں پولیس افسران کو محکمہ ترقی نسواں کے ساتھ مکمل تعاون یقینی بنانا ہوگا تاکہ متاثرہ خواتین کو بروقت تحفظ اور انصاف فراہم کیا جاسکے۔