کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ گھر میں بستر پر لیٹتے ہی نیند(sleep) آ جاتی ہے، لیکن جیسے ہی کسی ہوٹل، رشتہ دار کے گھر یا کسی نئی جگہ رات گزارنے کا موقع آتا ہے، نیند جیسے آنکھوں سے غائب ہو جاتی ہے؟ بستر آرام دہ ہو، کمرہ خوبصورت ہو اور سفر کے باعث تھکن بھی ہو، اس کے باوجود بار بار آنکھ کھلتی رہتی ہے۔
اگر آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوتا ہے تو گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ صرف آپ کے ساتھ پیش آنے والا مسئلہ نہیں بلکہ سائنس میں اس کیفیت کو ’فرسٹ نائٹ ایفیکٹ‘ کہا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق نئی جگہ پر پہلی رات دماغ مکمل طور پر سکون کی حالت میں نہیں جاتا بلکہ اس کا ایک حصہ اردگرد کے ماحول پر نظر رکھتا ہے۔
تحقیق کے مطابق نئی جگہ پر ہمارا دماغ ماحول کو ابھی پوری طرح محفوظ اور مانوس نہیں سمجھتا۔ اسی وجہ سے نیند نسبتاً ہلکی رہ سکتی ہے اور معمولی آواز، روشنی یا حرکت بھی آنکھ کھولنے کا سبب بن سکتی ہے۔ بعض افراد صبح اٹھ کر یہ محسوس کرتے ہیں کہ انہوں نے پوری رات جاگتے ہوئے گزاری، حالانکہ وہ کئی گھنٹے سو چکے ہوتے ہیں۔
دماغ رات کو بھی ’پہرے دار‘ کیوں بن جاتا ہے؟
نیند کے ماہرین کے مطابق انسان کے دماغ میں ماحول کو جانچنے اور خطرے کا اندازہ لگانے کا نظام موجود ہے۔ جب ہم کسی نئی جگہ پر جاتے ہیں تو دماغ کو اس ماحول کی آوازوں، روشنی، درجہ حرارت اور دیگر چیزوں سے عادت ڈالنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ فرسٹ نائٹ ایفیکٹ دراصل جسم اور دماغ کا ایک ’ایڈاپٹیشن رسپانس‘ یعنی نئے ماحول کے مطابق خود کو ڈھالنے کا عمل ہے۔ ان کے مطابق غیر مانوس جگہ پر سوتے وقت دماغ کا ایک حصہ زیادہ چوکس رہ سکتا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ بعض تحقیقات میں یہ بھی سامنے آیا ہے کہ نئی جگہ پر پہلی رات دماغ کے دونوں حصے ایک جیسی گہری نیند میں نہیں جاتے۔ ایک حصہ نسبتاً زیادہ چوکس رہ کر اردگرد کی آوازوں اور ممکنہ خطرات کو محسوس کرتا رہتا ہے۔ اسی لیے اسے عام طور پر دماغ کا ’پہرے دار‘ بھی کہا جاتا ہے۔
نئی جگہ پر کتنی نیند کم ہو سکتی ہے؟
نیند کے ماہرین کے مطابق تقریباً ہر شخص کسی نہ کسی سطح پر اس کیفیت کا تجربہ کر سکتا ہے، اگرچہ ہر شخص کو اس کا واضح احساس نہیں ہوتا۔
ماہرین کے مطابق نئی جگہ پر پہلی رات بعض افراد کی نیند اوسطاً 20 سے 30 منٹ تک کم ہو سکتی ہے۔ صرف نیند کا دورانیہ ہی متاثر نہیں ہوتا بلکہ نیند کی گہرائی بھی کم ہو سکتی ہے، جس کی وجہ سے صبح اٹھنے پر جسم پوری طرح تازہ محسوس نہیں کرتا۔
بچوں اور بزرگوں پر زیادہ اثر
ماہرین کے مطابق عمر بھی فرسٹ نائٹ ایفیکٹ پر اثر ڈال سکتی ہے۔ بچوں اور نوعمروں میں نئی جگہ پر نیند متاثر ہونے کا امکان زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ بزرگ افراد بھی اس تبدیلی کو زیادہ محسوس کر سکتے ہیں، جبکہ نوجوان عام طور پر اس کے نسبتاً کم اثرات محسوس کرتے ہیں۔
اس کی ایک وجہ یہ بھی بتائی جاتی ہے کہ انسانی دماغ ارتقائی طور پر غیر مانوس جگہوں کو زیادہ احتیاط کے ساتھ دیکھتا ہے۔ ماضی میں نئی یا اجنبی جگہ پر سونا واقعی خطرناک ہو سکتا تھا، اس لیے دماغ کا کچھ حصہ اردگرد کے ماحول پر نظر رکھنے کے لیے زیادہ فعال رہتا تھا۔
کیا صرف دماغ ہی نیند خراب کرتا ہے؟
ایسا ضروری نہیں۔ نئی جگہ پر نیند خراب ہونے کی کئی دوسری وجوہات بھی ہو سکتی ہیں۔ سفر کی تھکن، وقت کے معمول میں تبدیلی، کمرے کا درجہ حرارت، تیز روشنی، شور، نیا بستر، مختلف تکیہ اور آس پاس موجود لوگوں کی آوازیں بھی نیند کو متاثر کر سکتی ہیں۔
مزیدپڑھیں:رجب بٹ فلمی دنیا میں قدم رکھنے کو تیار، ہیروئن کون ہوں گی؟
اگر آپ کسی رشتہ دار کے گھر یا دوست کے ہاں ٹھہرے ہیں تو ذہنی طور پر بھی آپ معمول سے مختلف کیفیت میں ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح سفر کے دوران سونے اور جاگنے کے اوقات تبدیل ہونے سے جسم کی اندرونی گھڑی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
بعض لوگوں کو نئی جگہ پر الٹا زیادہ اچھی نیند آتی ہے
حیرت کی بات یہ ہے کہ فرسٹ نائٹ ایفیکٹ ہر شخص کے لیے ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کچھ لوگوں کو نئی جگہ پر پہلی رات گھر کے مقابلے میں زیادہ اچھی نیند آ سکتی ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق کے مطابق اگر کوئی شخص طویل سفر کے بعد بہت زیادہ تھکا ہوا ہو تو وہ نئی جگہ پر بھی گہری نیند سو سکتا ہے۔ اسی طرح اگر گھر میں مسلسل ذہنی دباؤ یا نیند کے مسائل رہتے ہوں تو نئی جگہ بعض افراد کو ان پریشانیوں سے عارضی طور پر دور کر دیتی ہے، جس کے نتیجے میں نیند بہتر ہو سکتی ہے۔
‘مجھے نیند نہیں آئے گی’ کا خیال بھی مسئلہ بڑھا سکتا ہے
کچھ لوگوں کے لیے اصل مسئلہ نئی جگہ نہیں بلکہ نیند کے بارے میں ان کی اپنی سوچ بن جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص بستر پر جانے سے پہلے ہی یہ سوچنے لگے کہ ’آج تو مجھے نیند نہیں آئے گی‘ تو اس کی بے چینی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ماہرین کے مطابق زیادہ فکرمند رہنے والے افراد فرسٹ نائٹ ایفیکٹ کے لیے زیادہ حساس ہو سکتے ہیں۔ بعض اوقات انسان نیند نہ آنے کے خوف میں اتنا الجھ جاتا ہے کہ دماغ کو سکون ہی نہیں ملتا۔
تحقیق یہ بھی بتاتی ہے کہ نئی جگہ پر سونے سے پہلے ان کے ذہن میں یہ خیال آ جاتا تھا کہ انہیں نیند نہیں آئے گی۔ ان کے مطابق کبھی کبھی انسان سونے سے پہلے ہی اپنے ذہن میں یہ بات دہرانا شروع کر دیتا ہے کہ ’میں کمرے میں تو جا رہا ہوں، لیکن سو نہیں پاؤں گا۔‘
نئی جگہ پر پہلی رات اچھی نیند کے لیے کیا کریں؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ نئی جگہ پر نیند بہتر بنانے کے لیے چند آسان عادتیں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ کوشش کریں کہ سونے اور جاگنے کا وقت معمول کے قریب رہے۔ کمرہ بہت زیادہ گرم نہ ہو بلکہ پرسکون، تاریک اور آرام دہ ہو۔
سونے سے پہلے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور دیگر اسکرینوں کا استعمال کم کر دیں۔ نئی جگہ پر پہنچتے ہی فوراً سونے کے بجائے کچھ دیر آرام کریں تاکہ دماغ کو نئے ماحول سے مانوس ہونے کا موقع مل سکے۔
اگر ممکن ہو تو اپنا پسندیدہ تکیہ، کمبل یا کوئی ایسی چیز ساتھ رکھیں جو گھر کے ماحول کی یاد دلاتی ہو۔ سونے سے پہلے کتاب پڑھنا، ہلکی موسیقی سننا یا کوئی پرسکون معمول اپنانا بھی ذہن کو آرام کی حالت میں لانے میں مدد دے سکتا ہے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایک رات کی خراب نیند کو لے کر پریشان نہ ہوں۔ اکثر صورتوں میں دماغ نئی جگہ سے مانوس ہونے کے بعد زیادہ پرسکون ہو جاتا ہے اور نیند بھی معمول پر آ جاتی ہے۔
اس لیے اگلی بار اگر کسی ہوٹل یا نئی جگہ پر پہلی رات بار بار آنکھ کھل جائے تو اسے فوری طور پر کسی بیماری کی علامت نہ سمجھیں۔ ممکن ہے آپ کا دماغ صرف نئے ماحول کو سمجھنے اور یہ یقین کرنے میں مصروف ہو کہ یہ جگہ محفوظ ہے اور جیسے ہی دماغ کو اطمینان ہو جاتا ہے، نیند کا پہرہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہونے لگتا ہے۔









