بانی: عبداللہ بٹ      ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بانی: عبداللہ بٹ

ایڈیٹرانچیف : عاقل جمال بٹ

بھائی کا کتاب میں شہزادی ڈیانا کی موت کی ’حقیقت‘ سامنے لانے کا اعلان

برطانوی شاہی خاندان(British Royal Family) کی آنجہانی بہو، پرنسس لیڈی ڈیانا(Lady Diana) کے بھائی چارلس اسپینسر نے اپنی بہن کی زندگی اور موت سے متعلق حقائق اپنے نقطۂ نظر سے بیان کرنے کے لیے نئی کتاب لکھنے کا اعلان کیا ہے۔

کتاب ’سوان سانگ: ڈیانا، مائی سسٹر‘ برطانیہ اور دیگر ممالک میں 22 ستمبر کو شائع ہوگ ی اور اس کا 12 زبانوں میں ترجمہ کیا جائے گا۔

پبلشر پینگوئن رینڈم ہاؤس کے مطابق یہ پہلی مرتبہ ہے کہ چارلس ’ارل‘ (برطانوی رئیس) اسپینسر نے اپنی بہن کے بارے میں تفصیل سے اور کھل کر گفتگو کی ہے۔

کتاب میں شہزادی ڈیانا کی زندگی اور 1997ء میں پیرس میں پیش آنے والے کار حادثے میں ڈیانا کی ہلاکت کے بعد گزرنے والے المناک ہفتے کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔

چارلس اسپینسر کا کہنا ہے کہ ڈیانا کی موت کی 30ویں برسی قریب آنے کے باعث مجھے ایک بار پھر اپنی بہن سے متعلق انٹرویوز کی متعدد درخواستیں موصول ہو رہی تھیں، اس صورتِ حال نے مجھے اپنی یادیں اور خیالات مستقل طور پر قلم بند کرنے پر آمادہ کیا ہے کیونکہ وقت کے ساتھ کئی ایسی آراء بھی حقیقت سمجھ لی گئیں جو درست نہیں۔

اسپینسر نے کہا کہ میں اپنی بہن کی جانب سے بات کرنا چاہتا ہوں اور ڈیانا کو مثبت انداز میں یاد کرنا چاہتا ہوں، میرا مقصد قارئین کو ڈیانا کی شخصیت کا وہ پہلو دکھانا ہے جس میں میری بہن محبت، کشش، خود اعتمادی کی کمی اور بھرپور زندگی گزارنے کا جذبہ رکھنے والی منفرد شخصیت تھی۔

واضح رہے کہ شہزادی ڈیانا کی موت کے بعد ان کے بھائی نے ویسٹ منسٹر ایبی میں ہونے والی آخری رسومات کے دوران جذباتی خطاب کیا تھا اور ان کے دونوں بیٹوں شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کی ہمیشہ دیکھ بھال کرنے کا عہد کیا تھا۔

مزیدپڑھیں:پاکستانی طلبا کے لیے ‘جیمنائی پلس’ کی مفت سبسکرپشن حاصل کرنے کا آسان طریقہ

30 برس بعد شہزادہ ولیم اور شہزادہ ہیری کے درمیان تعلقات میں شدید اختلافات پیدا ہو چکے ہیں، ڈیانا کے سابق شوہر اب برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم ہیں اور ان کی اہلیہ ملکہ کمیلا ہیں۔

62 سالہ چارلس اسپینسر دونوں شہزادوں کے قریب سمجھے جاتے ہیں۔

ایک رپورٹ کے مطابق شہزادہ ہیری، ان کی اہلیہ میگھن اور ان کے دونوں بچے جولائی کے آغاز میں اسپینسر کے آبائی گھر آل تھورپ گئے تھے جہاں انہوں نے ڈیانا کی قبر کا دورہ بھی کیا تھا۔

اسپینسر کا کہنا ہے کہ میں چاہتا ہوں کہ کتاب ڈیانا کو یاد رکھنے والوں کے ساتھ ساتھ ان نوجوانوں کو بھی متاثر کرے جو میری بہن کے عروج کے دور کو یاد نہیں رکھتے۔