دینی مدارس کے بینک اکاؤنٹس کے دیرینہ مسئلے کےحل کی جانب اہم پیش رفت ہوئی ہے،مدارس کو قانونی بینکاری نظام سےمنسلک کرکےقومی دھارے میں شامل کرنے پردینی قیادت،اسٹیٹ بینک اورمالیاتی اداروں کے درمیان اتفاق ہوگیا۔
ڈائریکٹوریٹ جنرل مذہبی تعلیم کے زیراہتمام علما و مشائخ کانفرنس میں مدارس کے بینک اکاؤنٹس کھولنے کے قانونی و انتظامی تقاضے مکمل کرکے اکاؤنٹس کھولنے کا عمل فوری آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔
مشاورتی اجلاس میں فیصلہ کیاگیاکہ ملک کےدیگرعلاقوں میں مدارس کودرپیش بینکاری رکاوٹیں بھی باہمی مشاورت سےدورکی جائیں گی،شرکانےکہاکہ مدارس کےاکاؤنٹس کامسئلہ محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ لاکھوں طلبہ سے وابستہ قومی ضرورت ہے۔
مزید پڑھیں:گیس سبسڈی کے موجودہ نظام اور سلیب ریٹ پر نظرثانی کی ضرورت ہے، علی پرویز
اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ دینی مدارس کو باقاعدہ بینکاری نظام تک آسان اور باوقار رسائی فراہم کی جائے گی۔ شفاف طریقہ کار کے ذریعے اکاؤنٹس کھولنے سے مدارس اور بینکاری اداروں دونوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جاسکے گا۔
حکام کے مطابق بینکاری سہولت سے مدارس کے مالی معاملات محفوظ، دستاویزی اور باقاعدہ ہوں گے جبکہ مالی نظم و نسق، ریکارڈ اور عطیات کے انتظام میں بھی بہتری آئے گی۔








